احمد مشتاق

  • 1933

پاکستان کے معروف ترین اور محترم جدید شاعروں میں سے ایک، اپنے نوکلاسیکی آہنگ کے لیے معروف

پاکستان کے معروف ترین اور محترم جدید شاعروں میں سے ایک، اپنے نوکلاسیکی آہنگ کے لیے معروف

info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

اب اس کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے


وہ جس کے نام سے ہوتے نہ تھے جدا مرے لب

بلا کی چمک اس کے چہرہ پہ تھی


مجھے کیا خبر تھی کہ مر جائے گا

ہم ان کو سوچ میں گم دیکھ کر واپس چلے آئے


وہ اپنے دھیان میں بیٹھے ہوئے اچھے لگے ہم کو

اک رات چاندنی مرے بستر پہ آئی تھی


میں نے تراش کر ترا چہرہ بنا دیا

اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے


اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے

اس معرکے میں عشق بچارا کرے گا کیا


خود حسن کو ہیں جان کے لالے پڑے ہوئے

عشق میں کون بتا سکتا ہے


کس نے کس سے سچ بولا ہے

خیر بدنام تو پہلے بھی بہت تھے لیکن


تجھ سے ملنا تھا کہ پر لگ گئے رسوائی کو

کھویا ہے کچھ ضرور جو اس کی تلاش میں


ہر چیز کو ادھر سے ادھر کر رہے ہیں ہم

میں بہت خوش تھا کڑی دھوپ کے سناٹے میں


کیوں تری یاد کا بادل مرے سر پر آیا

موت خاموشی ہے چپ رہنے سے چپ لگ جائے گی


زندگی آواز ہے باتیں کرو باتیں کرو

نئے دیوانوں کو دیکھیں تو خوشی ہوتی ہے


ہم بھی ایسے ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں

پانی میں عکس اور کسی آسماں کا ہے


یہ ناؤ کون سی ہے یہ دریا کہاں کا ہے

سنگ اٹھانا تو بڑی بات ہے اب شہر کے لوگ


آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے دیوانے کو

تنہائی میں کرنی تو ہے اک بات کسی سے


لیکن وہ کسی وقت اکیلا نہیں ہوتا

ترے آنے کا دن ہے تیرے رستے میں بچھانے کو


چمکتی دھوپ میں سائے اکٹھے کر رہا ہوں میں

تو اگر پاس نہیں ہے کہیں موجود تو ہے


تیرے ہونے سے بڑے کام ہمارے نکلے

وہی گلشن ہے لیکن وقت کی پرواز تو دیکھو


کوئی طائر نہیں پچھلے برس کے آشیانوں میں

یار سب جمع ہوئے رات کی خاموشی میں


کوئی رو کر تو کوئی بال بنا کر آیا

یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہے


اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں

comments powered by Disqus