صورت پر شعر

شاعروں نے محبوب کے چہرے

اور اس کی صورت کی مبالغہ آمیز تعریفیں کی ہیں اور اس باب میں اپنی تخلیقی قوت کا نئے نئے طریقوں سے اظہار کیا ہے ۔ محبوب کے چہرے کی خوبصورتی کا یہ بیانیہ ہم سب کے کام کا ہے ۔ چہرے کو بنیاد بنا کر اور بھی کئی طرح کے موضوعات اور مضامین پیدا کئے گئے ہیں ۔

کیا ستم ہے کہ اب تری صورت

غور کرنے پہ یاد آتی ہے

جون ایلیا

تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت

ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں

امام بخش ناسخ

عجب تیری ہے اے محبوب صورت

نظر سے گر گئے سب خوب صورت

حیدر علی آتش

اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے

اسی اللہ نے مجھ کو بھی محبت دی ہے

حیدر علی آتش

وہ چہرہ کتابی رہا سامنے

بڑی خوب صورت پڑھائی ہوئی

بشیر بدر

وہ ایک ہی چہرہ تو نہیں سارے جہاں میں

جو دور ہے وہ دل سے اتر کیوں نہیں جاتا

ندا فاضلی

تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے

تیرے آگے چاند پرانا لگتا ہے

کیف بھوپالی

اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے

جس نے ڈالی بری نظر ڈالی

عالمگیر خان کیف

شبنم کے آنسو پھول پر یہ تو وہی قصہ ہوا

آنکھیں مری بھیگی ہوئی چہرہ ترا اترا ہوا

بشیر بدر

کوئی بھولا ہوا چہرہ نظر آئے شاید

آئینہ غور سے تو نے کبھی دیکھا ہی نہیں

شکیب جلالی

اب اس کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے

وہ جس کے نام سے ہوتے نہ تھے جدا مرے لب

احمد مشتاق

میں تو منیرؔ آئینے میں خود کو تک کر حیران ہوا

یہ چہرہ کچھ اور طرح تھا پہلے کسی زمانے میں

منیر نیازی

رہتا تھا سامنے ترا چہرہ کھلا ہوا

پڑھتا تھا میں کتاب یہی ہر کلاس میں

شکیب جلالی

کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر

جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر

مرزا غالب

بھول گئی وہ شکل بھی آخر

کب تک یاد کوئی رہتا ہے

احمد مشتاق

بڑے سیدھے سادھے بڑے بھولے بھالے

کوئی دیکھے اس وقت چہرا تمہارا

آغا شاعر قزلباش

چہرہ کھلی کتاب ہے عنوان جو بھی دو

جس رخ سے بھی پڑھو گے مجھے جان جاؤ گے

نامعلوم

خوابوں کے افق پر ترا چہرہ ہو ہمیشہ

اور میں اسی چہرے سے نئے خواب سجاؤں

اطہر نفیس

ابر میں چاند گر نہ دیکھا ہو

رخ پہ زلفوں کو ڈال کر دیکھو

جوش لکھنوی

اک رات چاندنی مرے بستر پہ آئی تھی

میں نے تراش کر ترا چہرہ بنا دیا

احمد مشتاق

بھلا دیں ہم نے کتابیں کہ اس پری رو کے

کتابی چہرے کے آگے کتاب ہے کیا چیز

نظیر اکبرآبادی

ان کی صورت دیکھ لی خوش ہو گئے

ان کی سیرت سے ہمیں کیا کام ہے

جلیل مانک پوری

چاندنی راتوں میں چلاتا پھرا

چاند سی جس نے وہ صورت دیکھ لی

رند لکھنوی

تو نے صورت نہ دکھائی تو یہ صورت ہوگی

لوگ دیکھیں گے تماشا ترے دیوانے کا

جلیل مانک پوری

آ کہ میں دیکھ لوں کھویا ہوا چہرہ اپنا

مجھ سے چھپ کر مری تصویر بنانے والے

اختر سعید خان

اس ایک چہرے میں آباد تھے کئی چہرے

اس ایک شخص میں کس کس کو دیکھتا تھا میں

سلیم احمد

تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سے

ہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا

اکبر الہ آبادی

کتاب کھول کے دیکھوں تو آنکھ روتی ہے

ورق ورق ترا چہرا دکھائی دیتا ہے

احمد عقیل روبی

جسے پڑھتے تو یاد آتا تھا تیرا پھول سا چہرہ

ہماری سب کتابوں میں اک ایسا باب رہتا تھا

اسعد بدایونی

لمحہ لمحہ مجھے ویران کئے دیتا ہے

بس گیا میرے تصور میں یہ چہرہ کس کا

دل ایوبی

آئینہ چھوڑ کے دیکھا کئے صورت میری

دل مضطر نے مرے ان کو سنورنے نہ دیا

عزیز لکھنوی

اس ایک چہرہ کے پیچھے ہزار چہرہ ہیں

ہزار چہروں کا وہ قافلہ سا لگتا ہے

شباب میرٹھی

ہم کسی بہروپئے کو جان لیں مشکل نہیں

اس کو کیا پہچانیے جس کا کوئی چہرا نہ ہو

حکیم منظور

ابھی تو اور بھی چہرے تمہیں پکاریں گے

ابھی وہ اور بھی چہروں میں منتقل ہوگا

امیر امام

ابھی تو اور بھی چہرے تمہیں پکاریں گے

ابھی وہ اور بھی چہروں میں منتقل ہوگا

امیر امام

بناتا ہوں میں تصور میں اس کا چہرہ مگر

ہر ایک بار نئی کائنات بنتی ہے

ترکش پردیپ

ملوں ہوں خاک جوں آئینہ منہ پر

تری صورت مجھے آتی ہے جب یاد

تاباں عبد الحی
بولیے