ملاقات پر20 بہترین شاعری


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے


آج تو مل کے بھی جیسے نہ ملے ہوں تجھ سے


چونک اٹھتے تھے کبھی تیری ملاقات سے ہم

اب ملاقات ہوئی ہے تو ملاقات رہے


نہ ملاقات تھی جب تک کہ ملاقات نہ تھی

بعض اوقات کسی اور کے ملنے سے عدمؔ


اپنی ہستی سے ملاقات بھی ہو جاتی ہے

گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیرؔ


قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا

غیروں سے تو فرصت تمہیں دن رات نہیں ہے


ہاں میرے لیے وقت ملاقات نہیں ہے

ہر ملاقات پہ سینے سے لگانے والے


کتنے پیارے ہیں مجھے چھوڑ کے جانے والے

جانے والے سے ملاقات نہ ہونے پائی


دل کی دل میں ہی رہی بات نہ ہونے پائی

جب اس کی زلف میں پہلا سفید بال آیا


تب اس کو پہلی ملاقات کا خیال آیا

کافی نہیں خطوط کسی بات کے لئے


تشریف لائیے گا ملاقات کے لئے

کیسے کہہ دوں کہ ملاقات نہیں ہوتی ہے


روز ملتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہے

کیا کہوں اس سے کہ جو بات سمجھتا ہی نہیں


وہ تو ملنے کو ملاقات سمجھتا ہی نہیں

مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھ


مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا

مٹے یہ شبہ تو اے دوست تجھ سے بات کریں


ہماری پہلی ملاقات آخری تو نہیں

مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی


کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی

نہ ملو کھل کے تو چوری کی ملاقات رہے


ہم بلائیں گے تمہیں رات گئے رات رہے

روز آنے پہ نہیں نسبت عشقی موقوف


عمر بھر ایک ملاقات چلی جاتی ہے

سنتے رہے ہیں آپ کے اوصاف سب سے ہم


ملنے کا آپ سے کبھی موقع نہیں ملا

یار سب جمع ہوئے رات کی خاموشی میں


کوئی رو کر تو کوئی بال بنا کر آیا

یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے


بات ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی ہے

زندگی کے وہ کسی موڑ پہ گاہے گاہے


مل تو جاتے ہیں ملاقات کہاں ہوتی ہے


ملاقات کو شاعروں نے کثرت کے ساتھ موضوع بنایا ہے ۔ یہ ملاقات بنیادی طور پر محبوب سے ملاقات ہے ۔ شاعر اپنی زندگی میں جو بھی کچھ ہو لیکن شاعری میں ضرور عاشق بن جاتا ہے ۔ ان شعروں میں آپ ملاقات کے میسر نہ ہونے ، ملاقات کے انتظار میں رہنے اور ملاقات کے وقت محبوب کے دھوکا دے جانے جیسی صورتوں سے گزریں گے ۔

comments powered by Disqus