شراب پر 20 مشہور شعر


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے


آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراقؔ


جب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہو گئے

اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں


جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں

اے محتسب نہ پھینک مرے محتسب نہ پھینک


ظالم شراب ہے ارے ظالم شراب ہے

اے ذوقؔ دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگا


چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی


پیتا ہوں روز ابر و شب ماہ تاب میں

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے


رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی


آؤ کہیں شراب پئیں رات ہو گئی

لطف مے تجھ سے کیا کہوں زاہد


ہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں

نہ تم ہوش میں ہو نہ ہم ہوش میں ہیں


چلو مے کدہ میں وہیں بات ہوگی

پہلے شراب زیست تھی اب زیست ہے شراب


کوئی پلا رہا ہے پئے جا رہا ہوں میں

پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی


ساقی نے جیسے پیاس ملا دی شراب میں

پلا دے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہے


پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں


رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

ساقیا تشنگی کی تاب نہیں


زہر دے دے اگر شراب نہیں

شکن نہ ڈال جبیں پر شراب دیتے ہوئے


یہ مسکراتی ہوئی چیز مسکرا کے پلا

ترک مے ہی سمجھ اسے ناصح


اتنی پی ہے کہ پی نہیں جاتی

زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر


یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو

زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں


کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا

ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا


ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے


comments powered by Disqus