دنیا پر ۲۰ مقبول اشعار


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے


بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے


ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا


تری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے

چلے تو پاؤں کے نیچے کچل گئی کوئی شے


نشے کی جھونک میں دیکھا نہیں کہ دنیا ہے

دنیا بہت خراب ہے جائے گزر نہیں


بستر اٹھاؤ رہنے کے قابل یہ گھر نہیں

دنیا بس اس سے اور زیادہ نہیں ہے کچھ


کچھ روز ہیں گزارنے اور کچھ گزر گئے

دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے


مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے

دنیا مرے پڑوس میں آباد ہے مگر


میری دعا سلام نہیں اس ذلیل سے

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں


جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں

دنیا پسند آنے لگی دل کو اب بہت


سمجھو کہ اب یہ باغ بھی مرجھانے والا ہے

دنیا تو چاہتی ہے یونہی فاصلے رہیں


دنیا کے مشوروں پہ نہ جا اس گلی میں چل

دنیا تو ہے دنیا کہ وہ دشمن ہے سدا کی


سو بار ترے عشق میں ہم خود سے لڑے ہیں

گاؤں کی آنکھ سے بستی کی نظر سے دیکھا


ایک ہی رنگ ہے دنیا کو جدھر سے دیکھا

ہاتھ دنیا کا بھی ہے دل کی خرابی میں بہت


پھر بھی اے دوست تری ایک نظر سے کم ہے

جتنی بری کہی جاتی ہے اتنی بری نہیں ہے دنیا


بچوں کے اسکول میں شاید تم سے ملی نہیں ہے دنیا

کیسے آ سکتی ہے ایسی دل نشیں دنیا کو موت


کون کہتا ہے کہ یہ سب کچھ فنا ہو جائے گا

نہیں دنیا کو جب پروا ہماری


تو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم

راس آنے لگی دنیا تو کہا دل نے کہ جا


اب تجھے درد کی دولت نہیں ملنے والی

تھوڑی سی عقل لائے تھے ہم بھی مگر عدمؔ


دنیا کے حادثات نے دیوانہ کر دیا

یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیں


مجھے گلاس بڑے دے شراب کم کر دے


دنیا کو ہم سب نے اپنی اپنی آنکھ سے دیکھا اور برتا ہے اس عمل میں بہت کچھ ہمارا اپنا ہے جو کسی اور کا نہیں اور بہت کچھ ہم سے چھوٹ گیا ہے ۔ دنیا کو موضوع بنانے والے اس خوبصورت شعری انتخاب کو پڑھ کر آپ دنیا سے وابستہ ایسے اسرار سے واقف ہوں گے جن تک رسائی صرف تخلیقی اذہان ہی کا مقدر ہے ۔ ان اشعار کو پڑھ کر آپ دنیا کو ایک بڑے سیاق میں دیکھنے کے اہل ہوں گے

comments powered by Disqus