زلف پر ۲۰ بہترین اشعار


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے


اپنے سر اک بلا تو لینی تھی


میں نے وہ زلف اپنے سر لی ہے

بال اپنے اس پری رو نے سنوارے رات بھر


سانپ لوٹے سیکڑوں دل پر ہمارے رات بھر

بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا


تری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے

بکھری ہوئی ہو زلف بھی اس چشم مست پر


ہلکا سا ابر بھی سر مے خانہ چاہئے

چھیڑتی ہیں کبھی لب کو کبھی رخساروں کو


تم نے زلفوں کو بہت سر پہ چڑھا رکھا ہے

دیکھی تھی ایک رات تری زلف خواب میں


پھر جب تلک جیا میں پریشان ہی رہا

گئی تھی کہہ کے میں لاتی ہوں زلف یار کی بو


پھری تو باد صبا کا دماغ بھی نہ ملا

گیسو رخ پر ہوا سے ہلتے ہیں


چلئے اب دونوں وقت ملتے ہیں

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے


اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

اجازت ہو تو میں تصدیق کر لوں تیری زلفوں سے


سنا ہے زندگی اک خوبصورت دام ہے ساقی

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے


تب میں نے اپنے دل میں لاکھوں خیال باندھے

کس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانی


جھوم کے آئی گھٹا ٹوٹ کے برسا پانی

کسی کے ہو رہو اچھی نہیں یہ آزادی


کسی کی زلف سے لازم ہے سلسلہ دل کا

نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں


تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں

پھر یاد بہت آئے گی زلفوں کی گھنی شام


جب دھوپ میں سایہ کوئی سر پر نہ ملے گا

پوچھا جو ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح


زلفوں کو رخ پہ ڈال کے جھٹکا دیا کہ یوں

سب کے جیسی نہ بنا زلف کہ ہم سادہ نگاہ


تیرے دھوکے میں کسی اور کے شانے لگ جائیں

صبح دم زلفیں نہ یوں بکھرائیے


لوگ دھوکا کھا رہے ہیں شام کا

زاہد نے مرا حاصل ایماں نہیں دیکھا


رخ پر تری زلفوں کو پریشاں نہیں دیکھا

ذرا ان کی شوخی تو دیکھنا لیے زلف خم شدہ ہاتھ میں


میرے پاس آئے دبے دبے مجھے سانپ کہہ کے ڈرا دیا


شاعری میں زلف کا موضوع بہت دراز رہا ہے ۔ کلاسیکی شاعری میں تو زلف کے موضوع کے تئیں شاعروں نے بے پناہ دلچسپی دکھائی ہے یہ زلف کہیں رات کی طوالت کا بیانیہ ہے تو کہیں اس کی تاریکی کا ۔اور اسے ایسی ایسی نادر تشبہیوں ، استعاروں اور علامتوں کے ذریعے سے برتا گیا ہے کہ پڑھنے والا حیران رہ جاتا ہے ۔ شاعری کا یہ حصہ بھی شعرا کے بے پناہ تخیل کی عمدہ مثال ہے ۔

comments powered by Disqus