دیدار پر ۲۰ بہترین اشعار
ہمارا یہ انتخاب عاشق
کی معشوق کے دیدار کی خواہش کا بیان ہے ۔ یہ خواہش جس گہری بے چینی کو جنم دیتی ہے اس سے ہم سب گزرے بھی ہیں لیکن اس تجربے کو ایک بڑی سطح پر جاننے اور محسوس کرنے کیلئے اس شعری متن سے گزرنا ضروری ہے ۔
ٹاپ ٢٠ سیریز
- 20 منتخب ترغیبی اشعار
- اخبارپر 20 منتخب اشعار
- ادا پر منتخب اشعار
- اداسی شاعری
- آدمی/انسان شاعری
- استقبال شاعری
- الوداعیہ شاعری
- انتظار شاعری
- آنسو پر20 منتخب اشعار
- آنکھ پر 20 منتخب اشعار
- انگڑائ پر 20 منتخب اشعار
- آئینہ پر 20 منتخب اشعار
- بارش پر 20 منتخب اشعار
- بوسے پر 20 منتخب اشعار
- پھول شاعری
- تصویر پر 20 منتخب اشعار
- تنہائی کے موضوع پر اشعار
- ٹوٹے ہوئے دلوں کے لئے 20منتخب اشعار
- جدائی پر 20 منتخب اشعار
- چاند پر 20 منتخب اشعار
- حسن شاعری
- خاموشی پر شاعری
- درد شاعری
- دعا پر 20 منتخب اشعار
- دل شاعری
- دنیا شاعری
- دھوکہ پر شاعری
- دوست/دوستی شاعری
- دیدار پر شاعری
- ریل گاڑی پر 20منتخب اشعار
- زلف شاعری
- زندگی شاعری
- سب سے زیادہ مقتبس 20منتخب اشعار
- سفر شاعری
- شراب شاعری
- عشق پر 20 منتخب اشعار
- کتاب شاعری
- لب پر شاعری
- مسکراہٹ شاعری
- ملاقات شاعری
- موت شاعری
- نشور واحدی کے 20 منتخب اشعار
- نئے سال پر منتخب شعر
- وصال شاعری
- وفا شاعری
- وقت شاعری
- یاد شاعری
بھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیا
تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں
-
موضوعات: فلمی اشعاراور 2 مزید
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال یہاں ظاہر بین نگاہ اور باطنی بصیرت کا فرق بتاتے ہیں۔ ظاہری آنکھ صرف شکل و صورت اور فریبِ منظر دیکھتی ہے، مگر دیدۂ دل حقیقت تک رسائی دیتا ہے۔ شاعر انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اندر کی روشنی بیدار کرے۔ اصل پیغام یہی ہے کہ سچی معرفت دل کے جاگنے سے ملتی ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال یہاں ظاہر بین نگاہ اور باطنی بصیرت کا فرق بتاتے ہیں۔ ظاہری آنکھ صرف شکل و صورت اور فریبِ منظر دیکھتی ہے، مگر دیدۂ دل حقیقت تک رسائی دیتا ہے۔ شاعر انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اندر کی روشنی بیدار کرے۔ اصل پیغام یہی ہے کہ سچی معرفت دل کے جاگنے سے ملتی ہے۔
-
موضوعات: تصوفاور 2 مزید
تم اپنے چاند تارے کہکشاں چاہے جسے دینا
مری آنکھوں پہ اپنی دید کی اک شام لکھ دینا
-
موضوع: دیدار
سنا ہے حشر میں ہر آنکھ اسے بے پردہ دیکھے گی
مجھے ڈر ہے نہ توہین جمال یار ہو جائے
-
موضوعات: دیداراور 1 مزید
مرا جی تو آنکھوں میں آیا یہ سنتے
کہ دیدار بھی ایک دن عام ہوگا
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر اس خبر پر بے اختیار جذباتی ہو جاتا ہے کہ جس دیدار کے لیے عمر بھر تڑپا، وہ کبھی عام ہو جائے گا۔ “جی کا آنکھوں میں آنا” آنسوؤں اور دل کے بھر آنے کا استعارہ ہے۔ مرکزی کیفیت محرومی سے امید تک کا سفر ہے: دوری کی سختی کے مقابلے میں وصال کی توقع۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر اس خبر پر بے اختیار جذباتی ہو جاتا ہے کہ جس دیدار کے لیے عمر بھر تڑپا، وہ کبھی عام ہو جائے گا۔ “جی کا آنکھوں میں آنا” آنسوؤں اور دل کے بھر آنے کا استعارہ ہے۔ مرکزی کیفیت محرومی سے امید تک کا سفر ہے: دوری کی سختی کے مقابلے میں وصال کی توقع۔
-
موضوع: دیدار
کاسۂ چشم لے کے جوں نرگس
ہم نے دیدار کی گدائی کی
Interpretation:
Rekhta AI
میر تقی میر نے آنکھ کو کاسۂ گدائی بنا کر طلبِ دیدار کی کیفیت دکھائی ہے، اور نرگس کی کاسہ نما صورت اس استعارے کو اور گہرا کرتی ہے۔ یہاں دیدار کوئی حق نہیں بلکہ خیرات کی طرح مانگا گیا ہے۔ جذبہ عاجزی، بے بسی اور شدید آرزو میں ڈوبا ہوا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
میر تقی میر نے آنکھ کو کاسۂ گدائی بنا کر طلبِ دیدار کی کیفیت دکھائی ہے، اور نرگس کی کاسہ نما صورت اس استعارے کو اور گہرا کرتی ہے۔ یہاں دیدار کوئی حق نہیں بلکہ خیرات کی طرح مانگا گیا ہے۔ جذبہ عاجزی، بے بسی اور شدید آرزو میں ڈوبا ہوا ہے۔
-
موضوع: دیدار
فریب جلوہ کہاں تک بروئے کار رہے
نقاب اٹھاؤ کہ کچھ دن ذرا بہار رہے
-
موضوعات: استقبالاور 1 مزید