Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Mirza Ghalib's Photo'

مرزا غالب

1797 - 1869 | دلی, انڈیا

عظیم شاعر۔ عالمی ادب میں اردو کی آواز۔ خواص و عوام دونوں میں مقبول

عظیم شاعر۔ عالمی ادب میں اردو کی آواز۔ خواص و عوام دونوں میں مقبول

مرزا غالب کے اشعار

490K
Favorite

باعتبار

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

Interpretation: Rekhta AI

مرزا غالب اس شعر میں مذہبی عقائد پر ہلکا سا طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جنت کی حقیقت جو بھی ہو، انسان کو جینے کے لیے کسی امید کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاعر کے نزدیک جنت کا وعدہ ایک ایسا خوش کن ’خیال‘ ہے جس سے انسان کو دنیا کے دکھ سہنے کا حوصلہ ملتا ہے اور دل مطمئن رہتا ہے۔

عشق نے غالبؔ نکما کر دیا

ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں شاعر عشق کی تباہ کاریوں کا ذکر ہلکے پھلکے انداز میں کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محبت کی دیوانگی نے اسے دنیا کے کام دھندوں سے بیگانہ کر دیا ہے، ورنہ وہ بھی ایک زمانے میں بڑی خوبیوں اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

Interpretation: Rekhta AI

محبوب کی ایک جھلک عاشق کے چہرے پر وقتی چمک اور تازگی لے آتی ہے، مگر اندر کا درد جوں کا توں رہتا ہے۔ لوگ اس ظاہر ہونے والی رونق کو صحت کی علامت سمجھ کر دھوکا کھا جاتے ہیں۔ شعر میں محبت کی بیماری، باطنی کرب اور ظاہر و باطن کے فرق کی لطیف تصویر ہے۔

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا

اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں عاشق کہتا ہے کہ عشق کی شدت میں حیات و موت کی سرحد مٹ جاتی ہے۔ محبوب کا دیدار ہی زندگی کا سہارا ہے، مگر وہی محبوب اپنی بےرحمی یا بےنیازی سے قاتل بھی ہے۔ یوں عاشق ایک ہی نظر سے جیتا بھی ہے اور مر بھی جاتا ہے—یہی عشق کی بےبسی اور وارفتگی ہے۔

پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے

کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں محبوب کے تجاہلِ عارفانہ کا بیان ہے کہ وہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی عاشق کو پہچاننے سے انکار کر رہے ہیں۔ شاعر حیرت اور بے بسی کے عالم میں ہے کہ اپنی ہستی کا ثبوت اس شخص کو کیا دے جس کے عشق میں وہ دنیا بھر میں رسوا ہے۔

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

Interpretation: Rekhta AI

شاعر محبوب کی اس ادا پر فریفتہ ہے کہ وہ بغیر کسی ظاہری ہتھیار کے لڑنے یا قتل کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ یہ سادگی دراصل محبوب کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، کیونکہ ان کی قاتل نگاہیں تلوار سے زیادہ تیز ہیں۔ غالب اس تضاد کو بیان کرتے ہیں کہ محبوب کا یہ انداز کہ وہ نہتے ہو کر بھی وار کر رہے ہیں، عاشق کی جان لینے کے لیے کافی ہے۔

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل

جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر کا ماننا ہے کہ عشق اور غم کی شدت کا اظہار ہونا ضروری ہے۔ اگر انسان کا درد اتنا شدید نہیں کہ وہ خون کے آنسو روئے، تو رگوں میں بہنے والا لہو بے معنی ہے۔ غالب یہاں محض زندہ رہنے کو زندگی نہیں مانتے بلکہ درد کی انتہا کو زندگی کا جوہر سمجھتے ہیں۔

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

Interpretation: Rekhta AI

مرزا غالب نے اس شعر میں محبوب کی بے وقت توبہ پر گہرا طنز کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ محبوب نے ظلم چھوڑنے کا فیصلہ تو کیا مگر تب جب عاشق مر چکا تھا، لہٰذا اس 'زود پشیماں' (جلد شرمندہ ہونے والے) کی پشیمانی اب عاشق کے لیے بے معنی ہے۔

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں انسانی چاہت کی بے انتہاپن اور عدمِ تسکین بیان ہوئی ہے۔ خواہش کی شدت کو “دم نکلنا” کے استعارے سے یوں دکھایا گیا ہے کہ ہر آرزو جان پر بن آئے۔ مگر جب کچھ ارمان نکل بھی آئیں تو بھی دل بھر نہیں پاتا، کیونکہ طلب ختم نہیں ہوتی۔

عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ

کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں عشق کو ایک بے قابو آگ کہا گیا ہے جو انسان کی مرضی کے تابع نہیں۔ نہ آدمی اسے اپنے اختیار سے پیدا کر سکتا ہے، نہ اس کے بھڑک اٹھنے کے بعد اسے آسانی سے بجھا سکتا ہے۔ اصل کیفیت بے بسی اور عشق کی جلانے والی شدت ہے۔

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن

خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک

Interpretation: Rekhta AI

مرزا غالب نے اس شعر میں انتظار کی تلخی دکھائی ہے کہ محبوب کا تغافل شاید ایک دن ختم ہو جائے، مگر اس کے ختم ہونے تک بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ “خاک ہو جانا” موت، فنا اور وجود کے مٹ جانے کا استعارہ ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ توجہ ملے بھی تو ایسے وقت جب کچھ بچا ہی نہ ہو—یہی بے بسی اور حسرت شعر کی جان ہے۔

رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج

مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

Interpretation: Rekhta AI

مرزا غالب نے رنج کو ایک کیفیتِ دل بنایا ہے کہ بار بار کا دکھ انسان کو پکا کر دیتا ہے۔ جب مصیبتیں مسلسل ملیں تو دل ان سے مانوس ہو جاتا ہے اور ان کی شدت کم محسوس ہوتی ہے۔ اس شعر کا مرکز وہ حوصلہ ہے جو تکلیف سے گزر کر جنم لیتا ہے۔

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر تعلی کی ایک عمدہ مثال ہے جس میں شاعر اپنی انفرادیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ غالب دوسروں کی خوبی کا انکار تو نہیں کرتے مگر یہ باور کراتے ہیں کہ ان کا طرزِ ادا اور بیان کا انداز دوسروں سے بالکل مختلف اور منفرد ہے، جو انہیں ممتاز بناتا ہے۔

جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن

بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں عاشق کو ایسی فرصت کی طلب ہے جس میں دنیا کے کام اور وقت کی پابندیاں ختم ہو جائیں۔ “رات دن” سے مسلسل تڑپ اور نہ رکنے والی خواہش ظاہر ہوتی ہے۔ “تصورِ جاناں” محبوب کی یاد کا ایسا سہارا ہے جس میں بیٹھے رہنا بھی ایک کیفیتِ عبادت بن جاتا ہے۔ مرکزی جذبہ تنہائی میں یادِ محبوب کی مٹھاس اور اس کے لیے وقت مانگنے کی حسرت ہے۔

وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے

کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

Interpretation: Rekhta AI

غالب کے ہاں محبوب کی آمد اتنی غیر متوقع ہے کہ اسے خدا کی قدرت کہا گیا ہے۔ عاشق کی نگاہ کبھی محبوب پر، کبھی اپنے گھر پر ٹھہرتی ہے، جیسے یقین کرنے کے لیے بار بار دیکھ رہا ہو۔ اس میں حیرت، شکر اور خوش نصیبی کا لطیف احساس مرکزی ہے۔

بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ

کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر کہتا ہے کہ اس کی کیفیتِ بے خودی محض اتفاق نہیں بلکہ کسی سبب کا نتیجہ ہے۔ “پردہ داری” سے مراد وہ راز، دکھ یا حقیقت ہے جسے زبان پر لانا ممکن نہیں، اس لیے اسے چھپایا جاتا ہے۔ یوں الجھن اور بے خودی خود اس چھپی ہوئی بات کی گواہی بن جاتی ہے۔ یہ شعر باطن کی تڑپ اور پوشیدہ درد کا اظہار ہے۔

ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

EXPLANATION #1

معشوق کو اس کے منہ پر جھوٹا کہہ دینا غالب کا ہی کام تھا۔ اردو غزل کے عاشق کی تو بس یہی تمنا ہوتی ہے کہ معشوق اس سے کوئی وعدہ کرے۔ یہ وعدہ وصل کا بھی ہو سکتا ہے، ظلم و ستم سے توبہ کا بھی یا کسی نوازش کا بھی۔ وہ ان میں وعدوں سے بہل جاتا ہے اور اگر ایک وعدہ پورا نہیں ہوتا تو کسی دوسرے وعدے کے پورا ہونے کی امید پر جیتا رہتا ہے۔ لیکن غالبؔ نے صاف کہہ دیا کہ محترمہ آپ مجھ سے جو وعدے کرتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ میں دوسرے احمق عاشقوں کی طرح ان پر یقین کر کے ان کے پورا ہونے کی امید میں جی رہا ہوں تو اپنی یہ خوش فہمی دور کر لیجیے۔ سچ تو یہ ہے کہ میں نے آپ کے کسی وعدے پر کبھی یقین ہی نہیں کیا۔ معشوق کو اتنا بڑا اعصابی جھٹکا دینے کے بعد وہ اسے یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس سے ان کی محبت دوسرے عاشقوں سے کتنی مختلف اور کتنی شدید ہے۔ وہ اس کو بتاتے ہیں کہ اگر انہیں اس کے کسی وعدے پر یقین ہو جاتا تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہتی اور شاید وہ اتنی بڑی خوشی برداشت ہی نہ کر پاتے اور مرجاتے۔ محبت کی شدت کا یہ اظہار بھی نرالا ہے جس میں غزل کے معشوق کی روایتی وعدہ خلافیوں کا شکوہ پس پشت چلا جاتا ہے اور عاشق کی انفرادیت اور اس کے شدت عشق کا پہلو ابھر کر سامنے آ جاتا ہے۔ غالبؔ روایتی غزل کے مضامین کو گِھسے پٹے انداز میں اپنے اشعار میں دہرانے کو اپنے لیے باعثِ شرم سمجھتے تھے۔ وہ جب بھی کسی ایسے مضمون کو ہاتھ لگاتے تھے تو اس میں کوئی ایسا نیا پن ڈال دیتے تھے کہ سننے والے کو محسوس ہوتا تھا کہ اس نے اس سے پہلے اس طرح کی بات کبھی نہیں سنی۔ ’’خوشی سے مر نہ جاتے‘‘ میں معنی کا اک اور پہلو بھی ہے۔ یعنی اگر ہم کو وعدہ پر اعتبار ہوتا تو ہم خوشی خوشی، اپنی رضامندی سے مر جانا پسند کرتے۔ یہ معنی اس وقت کارگر ہوں گے جب فرض کر لیا جائے کہ معشوق نے مرنے کے بعد دوسری دنیا میں ملنے کا وعدہ کیا ہے۔

محمد اعظم

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح

کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں غالب ایسے دوستوں پر شکوہ کرتے ہیں جو دکھ میں سہارا دینے کے بجائے وعظ و نصیحت کرتے ہیں۔ “ناصح” کا رویہ خیرخواہی کم اور حکم سنانے جیسا زیادہ لگتا ہے۔ شاعر چاہتا ہے کہ دوستی میں یا تو کوئی چارہ کرے یا کم از کم غم بانٹے۔ اصل دکھ یہ ہے کہ ہمدردی کے بغیر نصیحت دوستی کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔

ہم کو ان سے وفا کی ہے امید

جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر اپنی سادگی اور خوش فہمی پر طنز کر رہا ہے کہ ہم ایسے شخص سے وفا کی توقع کر رہے ہیں جو وفا کے مفہوم سے ہی ناواقف ہے۔ یہ عاشق کی مجبوری اور محبوب کی لاپرواہی یا انجان پن کا خوبصورت اظہار ہے۔

ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ

کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں غالبؔ نے اپنی شاعرانہ عظمت کے باوجود میر تقی میرؔ کا اعترافِ عظمت کیا ہے۔ وہ عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فنِ شاعری صرف مجھ پر ختم نہیں ہوتا بلکہ مجھ سے پہلے میرؔ جیسا باکمال استاد بھی موجود تھا۔ یہ مقطع میرؔ کے لیے غالبؔ کی طرف سے ایک خوبصورت خراجِ تحسین ہے۔

غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے

بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کیے ہوئے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر اپنے ضبط کے ٹوٹنے کے خوف سے خبردار کر رہا ہے کہ میرے درد کو مت کریدو۔ دل میں آنسوؤں کا ایسا طلاطم ہے کہ ذرا سی ٹھیس لگنے پر گریہ و زاری کا ایسا سلسلہ شروع ہوگا جو طوفان کی صورت اختیار کر لے گا۔

قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پاے کیوں

Interpretation: Rekhta AI

شاعر فلسفیانہ انداز میں کہتا ہے کہ زندگی اور غم لازم و ملزوم ہیں، بلکہ یہ دونوں ایک ہی حقیقت ہیں۔ جب تک سانس چل رہی ہے، غم ساتھ رہے گا کیونکہ زندگی خود ایک قید ہے۔ انسان کے لیے غم سے مکمل رہائی صرف موت کے بعد ہی ممکن ہے، اس سے پہلے سکون کی امید عبث ہے۔

یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔ

تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں غالبؔ نے اپنی ذہانت کی تعریف اور اپنی رندی (شراب نوشی) کا اعتراف ایک ساتھ کیا ہے۔ وہ طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ ان کی گفتگو تو صوفیوں جیسی ہے، مگر ان کا عمل شراب نوشی کی وجہ سے دنیا داروں والا ہے۔ شاعر کا یہ انداز شوخی اور ظرافت کا بہترین نمونہ ہے۔

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

Interpretation: Rekhta AI

غالبؔ یہاں مایوسی کے بجائے ایک تلخ حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ جدائی اٹل تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ زندگی مختصر ہونے کا کوئی غم نہیں، کیونکہ اگر عمر لمبی بھی ہوتی تو وصال تو پھر بھی نہ ہوتا، بس انتظار کی اذیت طویل ہو جاتی۔ گویا موت نے انہیں طویل انتظار کے کرب سے بچا لیا۔

جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا

کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر اپنے محبوب یا زمانہ سے کہتا ہے کہ عشق کی آگ میں جب پورا وجود ہی ختم ہو گیا تو دل کیسے بچ سکتا ہے۔ راکھ کریدنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہاں اب کچھ باقی نہیں رہا۔ یہ شعر مکمل بربادی اور اس کے بعد کی لاحاصل تلاش پر طنز ہے۔

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی

کچھ ہماری خبر نہیں آتی

Interpretation: Rekhta AI

غالب اس شعر میں خود سے بیگانگی کی انتہا دکھاتے ہیں: انسان اتنا گم ہو جائے کہ اپنی پہچان بھی ہاتھ سے نکل جائے۔ “وہاں” ایک باطنی مقام ہے—حیرت، غم یا الجھن کی ایسی گہرائی جہاں شعور کی آواز نہیں پہنچتی۔ مرکزی احساس تنہائی اور بے بسی ہے۔

کعبہ کس منہ سے جاوگے غالبؔ

شرم تم کو مگر نہیں آتی

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں شاعر نے اپنی ذات پر طنز کیا ہے کہ وہ کس برتے پر کعبہ جانے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ اس کا دامن نیکیوں سے خالی ہے۔ یہ شعر انسان کی بے باکی اور گناہوں پر ڈھیٹ بن جانے کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ خطا کار ہونے کے باوجود ندامت محسوس نہیں کرتا۔

یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات

دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور

Interpretation: Rekhta AI

شاعر کو یقین ہے کہ محبوب اس کی کیفیت کو کبھی نہیں سمجھ پائے گا، اس لیے وہ خدا سے فریاد کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ محبوب کے اندر سمجھنے کی گنجائش، یعنی دل کی وسعت بڑھ جائے، کیونکہ بات لفظوں سے نہیں دل سے سمجھ میں آتی ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنی زبان کی زیادتی نہیں چاہتا، کہ بار بار کہنا بھی بے اثر ہے اور دکھ بڑھاتا ہے۔ یہ شعر محبت، بے بسی اور دعا کی تلخی مٹھاس کو یکجا کرتا ہے۔

بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ

تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں

Interpretation: Rekhta AI

شاعر نے دنیا کے نام نہاد سخی لوگوں کی حقیقت جانچنے کے لیے فقیر کا بھیس بدل لیا ہے۔ وہ طنزیہ انداز میں کہتا ہے کہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ 'اہلِ کرم' غریبوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں اور ان کی سخاوت کا دکھاوا کیسا ہے۔

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

EXPLANATION #1

جب کائنات میں کچھ نہیں تھا تو خدا موجود تھا، اگر کچھ بھی نہ ہوتا تو بھی صرف خدا ہی ہوتا۔

میری ہستی اور میرے الگ وجود نے مجھے برباد کر دیا، اگر میں 'میں' نہ ہوتا تو خدا کا ہی حصہ ہوتا۔

اس شعر میں غالب نے وحدت الوجود کے فلسفے کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان کا اپنا وجود ہی اس کے اور خدا کے درمیان پردہ ہے۔ اگر وہ الگ وجود نہ رکھتا تو وہ ذاتِ الہٰیہ میں ضم ہوتا، جو کہ انسانی زندگی کی مشکلات سے کہیں بلند مرتبہ ہے۔

شفق سوپوری

ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا

وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں سماج کی اس حقیقت پر طنز ہے کہ عزت اکثر ذاتی کمال سے نہیں بلکہ اقتدار کے قرب سے ملتی ہے۔ شاہ کی صحبت ملتے ہی آدمی اترانے لگتا ہے، کیونکہ لوگ طاقت کے سائے کو وقعت دیتے ہیں۔ غالبؔ خود پر بھی ہلکی سی چوٹ کرتے ہوئے آبرو کی ناپائیداری دکھاتے ہیں جو سرپرستی کے سہارے قائم ہو۔

موت کا ایک دن معین ہے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

EXPLANATION #1

یہ غالبؔ کے مشہور اشعار میں شمار ہوتا ہے۔ اس شعر میں غالب نے خوب مناسبتیں بھرتی ہیں۔ جیسے دن کی مناسبت سے رات ، موت کی مناسبت سے نیند۔ اس شعر میں غالبؔ نے انسانی نفسیات کے ایک اہم پہلو سے پردہ اٹھاکر ایک نازک مضمون باندھا ہے۔ شعر کے قریب کے معنی تو یہ ہیں کہ جبکہ اللہ نے ہر ذی نفس کی موت کے کئے ایک دن مقرر کیا ہے اور میں بھی اس حقیقت سے خوب واقف ہوں، پھرمجھے رات بھر نیند کیوں نہیں آتی۔ غور طلب بات یہ ہے کہ نیند کو موت کا ہی ایک روپ مانا جاتا ہے۔ شعر میں یہ رعایت بھی خوب ہے ۔ مگر شعر میں جو تہہ داری ہے اس کی طرف قاری کا دھیان فوری طور پر نہیں جاتا۔ دراصل غالب ؔ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگرچہ موت کا ایک دن الللہ نے مقرر کر کے رکھا ہے اور میں اس حقیقت سے واقف ہوں کہ ایک نہ ایک دن موت آہی جائےگی پھر موت کے کھٹکے سے مجھے ساری رات نیند کیوں نہیں آتی۔ یعنی موت کا ڈر مجھے سونے کیوں نہیں دیتا۔

شفق سوپوری

کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو

یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

EXPLANATION #1

میرے دل سے پوچھو کہ تمہارے نیم کش تیر نے مجھ پر کیا اثر کیا ہے۔

اگر وہ تیر جگر کے پار ہو جاتا تو یہ چبھتی ہوئی خلش کہاں رہتی۔

غالب محبوب کے ظلم کو ایسے تیر سے تشبیہ دیتے ہیں جو آدھا نکلتا ہے اور آدھا رہ جاتا ہے، اس لیے درد مسلسل چبھتا رہتا ہے۔ جگر کے پار ہو جانا گویا فیصلہ کن زخم ہے، مگر نیم کش ہونا نامکمل زخم کی علامت ہے۔ جذبے کی اصل کیفیت یہ ہے کہ ادھورا وار ہی سب سے زیادہ بے چین کرتا ہے۔

سیف ازہر

عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا

درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

Interpretation: Rekhta AI

مرزا غالب اس شعر میں فلسفہِ وحدت الوجود اور انسانی نفسیات بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ذات کی نفی میں ہی ابدی سکون ہے، اور جب غم برداشت سے باہر ہو جائے تو انسان بے حس ہو جاتا ہے، جو بذاتِ خود ایک دوا اور سکون کی صورت ہے۔

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا

درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا

Interpretation: Rekhta AI

مرزا غالب فرماتے ہیں کہ عشق سے پہلے زندگی بے کیف تھی، محبت نے ہی جینے کا سلیقہ سکھایا۔ عشق بظاہر دنیا کے رنج و غم کا مداوا ہے، لیکن یہ خود ایک ایسا مرض ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔ گویا یہ درد بھی ہے اور درد کی دوا بھی۔

ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے

وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں جدائی کے باوجود یاد کی دوام داری بیان ہوئی ہے۔ شاعر غالبؔ کو ان کے اندازِ فکر سے زندہ رکھتا ہے: ہر بات میں “کاش/اگر” کے امکانات ٹٹولنا۔ یہ “یوں ہوتا تو کیا ہوتا” حسرت، بے قراری اور خود احتسابی کی علامت بن جاتا ہے۔ دکھ یہ ہے کہ آدمی چلا جاتا ہے مگر اس کی پہچان بننے والی آواز رہ جاتی ہے۔

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن

بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر آدم کے خلد سے نکلنے کی معروف روایت کو اپنے حال پر قیاس کر کے بڑھا دیتا ہے۔ خلد عزت و مرتبے کی علامت ہے اور محبوب کا کوچہ عاشق کے لیے ذاتی جنت۔ وہاں سے یوں نکلنا کہ آبرو بھی نہ رہے، عشق کی شکست اور شدید ذلت کا استعارہ ہے۔ لہجہ شکوہ اور دل شکستگی سے بھرپور ہے۔

تم سلامت رہو ہزار برس

ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر دعا اور محبت سے بھرا ہوا ہے جس میں مبالغے کے ذریعے وقت کو پھیلا دیا گیا ہے۔ شاعر محبوب کی زندگی دراز ہی نہیں، حد سے زیادہ طویل اور بھرپور دیکھنا چاہتا ہے، اس لیے سال کے دن بھی بڑھا کر کہتا ہے۔ “پچاس ہزار دن” کا مطلب حقیقت نہیں بلکہ آرزو کی شدت ہے۔ جذبے کا مرکز نرمی، خیرخواہی اور جدائی کے خوف کو مات دینا ہے۔

آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی

اب کسی بات پر نہیں آتی

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں غالب مایوسی کی اس انتہا کو بیان کرتے ہیں جہاں انسان کے احساسات مٹ جاتے ہیں۔ پہلے وہ اپنی بے بسی اور دل کی تباہی پر طنزیہ طور پر ہنس لیتے تھے، مگر اب وہ بے حسی کے اس مقام پر ہیں جہاں خوشی یا غم کسی چیز کا اثر نہیں ہوتا۔ یہ کیفیت درد کی آخری حد ہے جہاں انسان پتھر ہو جاتا ہے۔

آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک

کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

Interpretation: Rekhta AI

مرزا غالب یہاں زندگی کی بے ثباتی اور عشق کی دشواریوں کا ذکر کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ معشوق کا دل جیتنے میں اتنا وقت لگتا ہے کہ عاشق کی عمر ہی ختم ہو جاتی ہے۔ زلف کے 'سر ہونے' سے مراد معاملات کا حل ہونا ہے، جو کہ ایک مختصر انسانی زندگی میں ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

Interpretation: Rekhta AI

مرزا غالب نے اس شعر میں نجومی کی پیش گوئی اور عاشق کی زمینی حقیقت کے درمیان تضاد بیان کیا ہے۔ اگرچہ برہمن نے سال کے اچھا ہونے کی خبر دی ہے، لیکن عاشق کو شک ہے کہ کیا اس 'اچھے سال' کا اثر محبوب کے رویے پر بھی پڑے گا یا نہیں۔ شاعر کہنا چاہتا ہے کہ عاشق کی خوش قسمتی کا انحصار ستاروں پر نہیں بلکہ محبوب کی نظرِ کرم پر ہوتا ہے۔

میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں

کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے

Interpretation: Rekhta AI

مرزا غالب اس شعر میں محبوب کی بے اعتنائی کا گلہ کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں گونگا نہیں ہوں اور بات کرنے کا حوصلہ رکھتا ہوں، لیکن ادب کے تقاضے یا موقع نہ ملنے کی وجہ سے خاموش ہوں۔ شاعر کی دلی تمنا ہے کہ محبوب خود اس کی بات سننے میں دلچسپی ظاہر کرے اور اس کا مدعا پوچھے۔

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں

رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں تنگ دستی کے باوجود جینے کی ضد اور امید جھلکتی ہے۔ قرض کی مے دراصل مجبوری بھی ہے اور بے نیازی کا دکھاوا بھی، اور “فاقہ مستی” بھوک سے پیدا ہونے والی سی بے خودی/دلیرانہ کیفیت کا استعارہ ہے۔ طنز یہ ہے کہ آدمی اپنی محرومی کو بھی ایک دن “رنگ لانے” والی سرمایہ کاری سمجھ کر سہارا بنا لیتا ہے۔

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

EXPLANATION #1

ہر کام کا آسانی سے انجام پا جانا کس قدر مشکل ہے۔

یہاں تک کہ آدمی کے لیے بھی سچا انسان بن جانا سہل نہیں ہے۔

مرزا غالب فرماتے ہیں کہ کائنات میں سہولت کا فقدان ہے اور ہر کام میں دشواری حائل ہے۔ جس طرح ہر کام آسان نہیں ہوتا، اسی طرح 'آدمی' (جو کہ محض ایک ظاہری صورت ہے) کے لیے 'انسان' (جو کہ اعلیٰ اخلاقی صفات کا مجموعہ ہے) کے مرتبے تک پہنچنا انتہائی کٹھن عمل ہے۔

محمد اعظم

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے

رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں غالب ایک ایسے رند کی تصویر کشی کرتے ہیں جس کے جسمانی قویٰ جواب دے چکے ہیں مگر شوق کی آگ اب بھی روشن ہے۔ وہ جام اٹھانے سے قاصر ہے لیکن شراب و مینا کا دیدار کر کے ہی اپنی تشنگی بجھانا چاہتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جسم کی موت کے باوجود خواہش زندہ رہتی ہے۔

بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

Interpretation: Rekhta AI

مرزا غالب دنیا کو “بازیچۂ اطفال” کہہ کر اسے بےمعنی اور ہلکا ثابت کرتے ہیں، جیسے بچوں کا کھیل جس میں گہرائی کم ہو۔ “شب و روز” کی گردش ایک نہ ختم ہونے والے اسٹیج ڈرامے کی طرح لگتی ہے جسے شاعر محض دیکھ رہا ہے۔ جذبہ بیزاری اور بےتعلقی کا ہے: زندگی کی سنجیدگی چھن کر محض تماشہ رہ جاتی ہے۔

کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے

مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

Interpretation: Rekhta AI

مرزا غالب شبِ غم کو ایک ایسی مصیبت بناتے ہیں جو لمبی بھی ہے اور ناقابلِ بیان بھی، اسی لیے کہنے سننے والا کوئی نہیں۔ دوسرے مصرعے میں موت کو ایک مرتبہ کے خاتمے کے طور پر آسان قرار دیا گیا ہے، جب کہ اصل اذیت بار بار لوٹنے والا غم ہے۔ احساس کا مرکز تھکن، بے بسی اور دکھ کے نہ ختم ہونے کی شکایت ہے۔

ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا

نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

EXPLANATION #1

جب مرنے کے بعد ہماری اتنی بدنامی ہوئی تو کاش ہم دریا میں ڈوب گئے ہوتے۔

اس طرح نہ تو ہمارا جنازہ اٹھتا اور نہ ہی کہیں ہماری قبر کا نشان باقی رہتا۔

غالب اپنی موت کے بعد ہونے والی رسوائی سے بیزار ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر وہ ڈوب کر مرتے تو ان کا جسم ہی نہ ملتا، جس سے جنازے اور تدفین کے ہنگامے سے بچ جاتے۔ وہ اپنی ہستی کے مٹ جانے کو قبر کے باقی رہنے سے بہتر سمجھتے ہیں کیونکہ وہ قبر بھی محض رسوائی کا نشان ہے۔

شفق سوپوری

جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے

کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

Interpretation: Rekhta AI

مرزا غالب یہاں محبوب کے وعدے پر طنز کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ محبوب کا جدا ہونا عاشق کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں ہے، اس لیے یہ کہنا بے معنی ہے کہ قیامت کو ملیں گے۔ شاعر کے نزدیک جدائی کا یہ لمحہ ہی اصل قیامت ہے، اس لیے کسی اور دن کا انتظار کیسا؟

ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر

کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے

Interpretation: Rekhta AI

غالب اس شعر میں انسان کی باطنی کشمکش کو بیان کرتے ہیں جہاں وہ دین اور دنیاوی خواہشات کے بیچ پھنسا ہوا ہے۔ ایمان اسے نیکی پر قائم رکھنا چاہتا ہے مگر کفر (یا حسنِ مجازی) اسے اپنی طرف راغب کر رہا ہے، جس سے وہ دینِ حق (کعبہ) سے منہ موڑ کر دنیا (کلیسا) کی طرف جانے پر مجبور ہے۔

Recitation

بولیے