ADVERTISEMENT

اشعار پرسردی

سردی کا موسم بہت رومان

پرور ہوتا ہے ۔ اس میں سورج کی شدت اور آگ کی گرمی بھی مزا دینے لگتی ہے ۔ایک ایسا موسم جس میں یہ دونوں شدتیں اپنا اثر زائل کردیں اور لطف دینے لگیں عاشق کیلئے ایک اور طرح کی بے چینی پیدا کر دیتا ہے کہ اس کے ہجر کی شدتیں کم ہونے کے بجائے اور بڑھ جاتی ہیں ۔ سردی کے موسم کو اور بھی کئی زاویوں سے شاعری میں برتا گیا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

شعیب بن عزیز

یہ سرد رات یہ آوارگی یہ نیند کا بوجھ

ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے

امید فاضلی

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی

دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی

پروین شاکر

وہ گلے سے لپٹ کے سوتے ہیں

آج کل گرمیاں ہیں جاڑوں میں

مضطر خیرآبادی
ADVERTISEMENT

جب چلی ٹھنڈی ہوا بچہ ٹھٹھر کر رہ گیا

ماں نے اپنے لعل کی تختی جلا دی رات کو

سبط علی صبا

سردی میں دن سرد ملا

ہر موسم بے درد ملا

محمد علوی

مرے سورج آ! مرے جسم پہ اپنا سایہ کر

بڑی تیز ہوا ہے سردی آج غضب کی ہے

شہریار

گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے

سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا

بیدل حیدری
ADVERTISEMENT

دسمبر کی سردی ہے اس کے ہی جیسی

ذرا سا جو چھو لے بدن کانپتا ہے

امت شرما میت

وہ سردیوں کی دھوپ کی طرح غروب ہو گیا

لپٹ رہی ہے یاد جسم سے لحاف کی طرح

مصور سبزواری

یادوں کی شال اوڑھ کے آوارہ گردیاں

کاٹی ہیں ہم نے یوں بھی دسمبر کی سردیاں

نامعلوم

سردی اور گرمی کے عذر نہیں چلتے

موسم دیکھ کے صاحب عشق نہیں ہوتا

معین شاداب
ADVERTISEMENT

تھوڑی سردی ذرا سا نزلہ ہے

شاعری کا مزاج پتلا ہے

محمد علوی

سورج لحاف اوڑھ کے سویا تمام رات

سردی سے اک پرندہ دریچے میں مر گیا

اطہر ناسک

کتراتے ہیں بل کھاتے ہیں گھبراتے ہیں کیوں لوگ

سردی ہے تو پانی میں اتر کیوں نہیں جاتے

محبوب خزاں

تم تو سردی کی حسیں دھوپ کا چہرہ ہو جسے

دیکھتے رہتے ہیں دیوار سے جاتے ہوئے ہم

نعمان شوق
ADVERTISEMENT

رات بے چین سی سردی میں ٹھٹھرتی ہے بہت

دن بھی ہر روز سلگتا ہے تری یادوں سے

امت شرما میت

سخت سردی میں ٹھٹھرتی ہے بہت روح مری

جسم یار آ کہ بچاری کو سہارا مل جائے

فرحت احساس

علویؔ یہ معجزہ ہے دسمبر کی دھوپ کا

سارے مکان شہر کے دھوئے ہوئے سے ہیں

محمد علوی

اک برف سی جمی رہے دیوار و بام پر

اک آگ میرے کمرے کے اندر لگی رہے

سالم سلیم
ADVERTISEMENT

وہ آگ بجھی تو ہمیں موسم نے جھنجھوڑا

ورنہ یہی لگتا تھا کہ سردی نہیں آئی

خرم آفاق

تیز دھوپ میں آئی ایسی لہر سردی کی

موم کا ہر اک پتلا بچ گیا پگھلنے سے

قتیل شفائی

اب کی سردی میں کہاں ہے وہ الاؤ سینہ

اب کی سردی میں مجھے خود کو جلانا ہوگا

نعیم سرمد

اتنی سردی ہے کہ میں بانہوں کی حرارت مانگوں

رت یہ موزوں ہے کہاں گھر سے نکلنے کے لیے

زبیر فاروقؔ
ADVERTISEMENT

سرد جھونکوں سے بھڑکتے ہیں بدن میں شعلے

جان لے لے گی یہ برسات قریب آ جاؤ

ساحر لدھیانوی

سردی ہے کہ اس جسم سے پھر بھی نہیں جاتی

سورج ہے کہ مدت سے مرے سر پر کھڑا ہے

فخر زمان

ایسی سردی میں شرط چادر ہے

اوڑھنے کی ہو یا بچھونے کی

پارس مزاری