خاموشی پر ۲۰ بہترین اشعار


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے


اثر بھی لے رہا ہوں تیری چپ کا


تجھے قائل بھی کرتا جا رہا ہوں

چٹخ کے ٹوٹ گئی ہے تو بن گئی آواز


جو میرے سینہ میں اک روز خامشی ہوئی تھی

چپ چاپ سنتی رہتی ہے پہروں شب فراق


تصویر یار کو ہے مری گفتگو پسند

ایک دن میری خامشی نے مجھے


لفظ کی اوٹ سے اشارہ کیا

ہم لبوں سے کہہ نہ پائے ان سے حال دل کبھی


اور وہ سمجھے نہیں یہ خامشی کیا چیز ہے

ہم نے اول تو کبھی اس کو پکارا ہی نہیں


اور پکارا تو پکارا بھی صداؤں کے بغیر

ہم ان کو سوچ میں گم دیکھ کر واپس چلے آئے


وہ اپنے دھیان میں بیٹھے ہوئے اچھے لگے ہم کو

ہر طرف تھی خاموشی اور ایسی خاموشی


رات اپنے سائے سے ہم بھی ڈر کے روئے تھے

کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت


جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے

خامشی تیری مری جان لیے لیتی ہے


اپنی تصویر سے باہر تجھے آنا ہوگا

خموش رہنے کی عادت بھی مار دیتی ہے


تمہیں یہ زہر تو اندر سے چاٹ جائے گا

خموشی سے مصیبت اور بھی سنگین ہوتی ہے


تڑپ اے دل تڑپنے سے ذرا تسکین ہوتی ہے

کتنی لمبی خاموشی سے گزرا ہوں


ان سے کتنا کچھ کہنے کی کوشش کی

مستقل بولتا ہی رہتا ہوں


کتنا خاموش ہوں میں اندر سے

نکالے گئے اس کے معنی ہزار


عجب چیز تھی اک مری خامشی

رنگ درکار تھے ہم کو تری خاموشی کے


ایک آواز کی تصویر بنانی تھی ہمیں

رگوں میں زہر خاموشی اترنے سے ذرا پہلے


بہت تڑپی کوئی آواز مرنے سے ذرا پہلے

سب ہوں گے اس سے اپنے تعارف کی فکر میں


مجھ کو مرے سکوت سے پہچان جائے گا

اسے بے چین کر جاؤں گا میں بھی


خموشی سے گزر جاؤں گا میں بھی

زور قسمت پہ چل نہیں سکتا


خامشی اختیار کرتا ہوں


خاموشی کو موضوع بنانے والے ان شعروں میں آپ خاموشی کا شور سنیں گے اور دیکھیں گے کہ الفاظ کے بے معنی ہوجانے کے بعد خاموشی کس طرح کلام کرتی ہے ۔ ہم نے خاموشی پر بہترین شاعری کا انتخاب کیا ہے اسے پڑھئے اور خاموشی کی زبان سے آگاہی حاصل کیجیے ۔

comments powered by Disqus