وقت پر شاعری

’’وقت وقت کی بات ہوتی ہے‘‘ یہ محاورہ ہم سب نے سنا ہوگا۔ جی ہاں وقت کا سفاک بہاؤ ہی زندگی کو نت نئی صورتوں سے دوچار کرتا ہے۔ کبھی صورت خوشگوار ہوتی ہے اور کبھی تکلیف دہ۔ ہم سب وقت کے پنجے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ تو آئیے وقت کو ذرا کچھ اور گہرائی میں اتر کر دیکھیں اور سمجھیں۔ شاعری کا یہ انتخاب وقت کی ایک گہری تخلیقی تفہیم کا درجہ رکھتا ہے۔

اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا

ہر اک دریا ہزاروں سال کا افسانہ لکھتا ہے

بشیر بدر

اخترؔ گزرتے لمحوں کی آہٹ پہ یوں نہ چونک

اس ماتمی جلوس میں اک زندگی بھی ہے

اختر ہوشیارپوری

الگ سیاست درباں سے دل میں ہے اک بات

یہ وقت میری رسائی کا وقت ہے کہ نہیں

عزیز حامد مدنی

اللہ تیرے ہاتھ ہے اب آبروئے شوق

دم گھٹ رہا ہے وقت کی رفتار دیکھ کر

بسملؔ  عظیم آبادی

اور کیا چاہتی ہے گردش ایام کہ ہم

اپنا گھر بھول گئے ان کی گلی بھول گئے

جون ایلیا

بچوں کے ساتھ آج اسے دیکھا تو دکھ ہوا

ان میں سے کوئی ایک بھی ماں پر نہیں گیا

حسن عباس رضا

چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آ سکے

وقت نے کس شبیہ کو خواب و خیال کر دیا

پروین شاکر

دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیں

تھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا

میر تقی میر

اک سال گیا اک سال نیا ہے آنے کو

پر وقت کا اب بھی ہوش نہیں دیوانے کو

ابن انشا

گیا جو ہاتھ سے وہ وقت پھر نہیں آتا

کہاں امید کہ پھر دن پھریں ہمارے اب

حفیظ جونپوری

غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا

ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا

صفی لکھنوی

گزرنے ہی نہ دی وہ رات میں نے

گھڑی پر رکھ دیا تھا ہاتھ میں نے

شہزاد احمد

گزرتے وقت نے کیا کیا نہ چارہ سازی کی

وگرنہ زخم جو اس نے دیا تھا کاری تھا

اختر ہوشیارپوری

ہمیں ہر وقت یہ احساس دامن گیر رہتا ہے

پڑے ہیں ڈھیر سارے کام اور مہلت ذرا سی ہے

خورشید طلب

ہزاروں سال سفر کر کے پھر وہیں پہنچے

بہت زمانہ ہوا تھا ہمیں زمیں سے چلے

وحید اختر

جب آ جاتی ہے دنیا گھوم پھر کر اپنے مرکز پر

تو واپس لوٹ کر گزرے زمانے کیوں نہیں آتے

عبرت مچھلی شہری

جیسے دو ملکوں کو اک سرحد الگ کرتی ہوئی

وقت نے خط ایسا کھینچا میرے اس کے درمیاں

محسن زیدی

کہیں یہ اپنی محبت کی انتہا تو نہیں

بہت دنوں سے تری یاد بھی نہیں آئی

احمد راہی

کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں

جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا

tis said this fleeting life once gone never returns

go to the tavern and bring back my youth again

tis said this fleeting life once gone never returns

go to the tavern and bring back my youth again

عبد الحمید عدم

کل ہم آئینے میں رخ کی جھریاں دیکھا کیے

کاروان عمر رفتہ کا نشاں دیکھا کیے

صفی لکھنوی

کون ڈوبے گا کسے پار اترنا ہے ظفرؔ

فیصلہ وقت کے دریا میں اتر کر ہوگا

احمد ظفر

کس طرح عمر کو جاتے دیکھوں

وقت کو آنکھوں سے اوجھل کر دے

فضا ابن فیضی

کوئی ٹھہرتا نہیں یوں تو وقت کے آگے

مگر وہ زخم کہ جس کا نشاں نہیں جاتا

فرخ جعفری

محبت میں اک ایسا وقت بھی آتا ہے انساں پر

ستاروں کی چمک سے چوٹ لگتی ہے رگ جاں پر

سیماب اکبرآبادی

مجھے تراش کے رکھ لو کہ آنے والا وقت

خزف دکھا کے گہر کی مثال پوچھے گا

فضا ابن فیضی

نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم

رہا یہ وہم کہ ہم ہیں سو وہ بھی کیا معلوم

فانی بدایونی

رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ

ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ

قتیل شفائی

رکھ دیا وقت نے آئینہ بنا کر مجھ کو

رو بہ رو ہوتے ہوئے بھی میں فراموش رہا

غلام مرتضی راہی

روکے سے کہیں حادثۂ وقت رکا ہے

شعلوں سے بچا شہر تو شبنم سے جلا ہے

علی احمد جلیلی

روز ملنے پہ بھی لگتا تھا کہ جگ بیت گئے

عشق میں وقت کا احساس نہیں رہتا ہے

احمد مشتاق

سب آسان ہوا جاتا ہے

مشکل وقت تو اب آیا ہے

شارق کیفی

سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں نگاہیں

کیا بات ہے میں وقت پہ گھر کیوں نہیں جاتا

ندا فاضلی

سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں

گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

میر حسن

سفر پیچھے کی جانب ہے قدم آگے ہے میرا

میں بوڑھا ہوتا جاتا ہوں جواں ہونے کی خاطر

ظفر اقبال

سیل زماں میں ڈوب گئے مشہور زمانہ لوگ

وقت کے منصف نے کب رکھا قائم ان کا نام

انور سدید

شورش وقت ہوئی وقت کی رفتار میں گم

دن گزرتے ہیں ترے خواب کے آثار میں گم

سعید احمد

صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے

عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے

منشی امیر اللہ تسلیم

تلاطم آرزو میں ہے نہ طوفاں جستجو میں ہے

جوانی کا گزر جانا ہے دریا کا اتر جانا

تلوک چند محروم

تو مجھے بنتے بگڑتے ہوئے اب غور سے دیکھ

وقت کل چاک پہ رہنے دے نہ رہنے دے مجھے

خورشید رضوی

تم چلو اس کے ساتھ یا نہ چلو

پاؤں رکتے نہیں زمانے کے

ابو المجاہد زاہد

عمر بھر ملنے نہیں دیتی ہیں اب تو رنجشیں

وقت ہم سے روٹھ جانے کی ادا تک لے گیا

فصیح اکمل

ان کا ذکر ان کی تمنا ان کی یاد

وقت کتنا قیمتی ہے آج کل

her mention, her yearning her memory

O how precious time now seems to me

her mention, her yearning her memory

O how precious time now seems to me

شکیل بدایونی

اس وقت کا حساب کیا دوں

جو تیرے بغیر کٹ گیا ہے

احمد ندیم قاسمی

وقت اب دسترس میں ہے اخترؔ

اب تو میں جس جہان تک ہو آؤں

اختر عثمان

وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ

غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی

ناصر کاظمی

وقت برباد کرنے والوں کو

وقت برباد کر کے چھوڑے گا

دواکر راہی

وقت فرصت دے تو مل بیٹھیں کہیں باہم دو دم

ایک مدت سے دلوں میں حسرت طرفین ہے

شیخ ظہور الدین حاتم

وقت ہر زخم کا مرہم تو نہیں بن سکتا

درد کچھ ہوتے ہیں تا عمر رلانے والے

صدا انبالوی

وقت جب کروٹیں بدلتا ہے

فتنۂ حشر ساتھ چلتا ہے

انور صابری

وقت کا پتھر بھاری ہوتا جاتا ہے

ہم مٹی کی صورت دیتے جاتے ہیں

باقی صدیقی

Added to your favorites

Removed from your favorites