٢٠ مشہور زندگی شاعری

ایک تخلیق کار زندگی کو جتنے زاویوں اور جتنی صورتوں میں دیکھتا ہے وہ ایک عام شخص کے دائرے سے باہر ہوتا ہے ۔ زندگی کے حسن اور اس کی بد صورتی کا جو ایک گہرا تجزیہ شعر وادب میں ملتا ہے اس کا اندازہ ہمارے اس چھوٹے سے انتخاب سےلگایا جاسکتا ہے ۔ زندگی اتنی سادہ نہیں جتنی بظاہر نظر آتی ہے اس میں بہت پیچ ہیں اور اس کے رنگ بہت متنوع ہیں ۔ وہ بہت ہمدرد بھی ہے اور اپنی بعض صورتوں میں بہت سفاک بھی ۔ زندگی کی اس کہانی کو آپ ریختہ پر پڑھئے ۔

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے

ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

جون ایلیا

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

بشیر بدر

بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں

تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

فراق گورکھپوری

زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں

پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے

بشیر بدر

زندگی زندہ دلی کا ہے نام

مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں

امام بخش ناسخ

موت کا بھی علاج ہو شاید

زندگی کا کوئی علاج نہیں

for death a cure there well may be

but for this life no remedy

for death a cure there well may be

but for this life no remedy

فراق گورکھپوری

زندگی شاید اسی کا نام ہے

دوریاں مجبوریاں تنہائیاں

کیف بھوپالی

تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم

ٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہم

ساحر لدھیانوی

یوں تو مرنے کے لیے زہر سبھی پیتے ہیں

زندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نے

خلیل الرحمن اعظمی

چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے

اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے

I go laughing playing with waves of adversity

If life were to be easy, unbearable it would be

I go laughing playing with waves of adversity

If life were to be easy, unbearable it would be

اصغر گونڈوی

مختصر یہ ہے ہماری داستان زندگی

اک سکون دل کی خاطر عمر بھر تڑپا کیے

معین احسن جذبی

زندگی اک آنسوؤں کا جام تھا

پی گئے کچھ اور کچھ چھلکا گئے

life was a cup of teardrops unallayed

some were drunk and some were idly sprayed

life was a cup of teardrops unallayed

some were drunk and some were idly sprayed

شاہد کبیر

میں سوچتا ہوں بہت زندگی کے بارے میں

یہ زندگی بھی مجھے سوچ کر نہ رہ جائے

ابھیشیک شکلا

اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا

زندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیا

شاد عظیم آبادی

میں مے کدے کی راہ سے ہو کر نکل گیا

ورنہ سفر حیات کا کافی طویل تھا

عبد الحمید عدم

ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانیؔ

زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا

فانی بدایونی

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب

موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

چکبست برج نرائن

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

فانی بدایونی

Added to your favorites

Removed from your favorites