Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

٢٠ مشہور زندگی شاعری

ایک تخلیق کار زندگی

کو جتنے زاویوں اور جتنی صورتوں میں دیکھتا ہے وہ ایک عام شخص کے دائرے سے باہر ہوتا ہے ۔ زندگی کے حسن اور اس کی بد صورتی کا جو ایک گہرا تجزیہ شعر وادب میں ملتا ہے اس کا اندازہ ہمارے اس چھوٹے سے انتخاب سےلگایا جاسکتا ہے ۔ زندگی اتنی سادہ نہیں جتنی بظاہر نظر آتی ہے اس میں بہت پیچ ہیں اور اس کے رنگ بہت متنوع ہیں ۔ وہ بہت ہمدرد بھی ہے اور اپنی بعض صورتوں میں بہت سفاک بھی ۔ زندگی کی اس کہانی کو آپ ریختہ پر پڑھئے ۔

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

بشیر بدر

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے

ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

جون ایلیا

بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں

تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

Interpretation: Rekhta AI

شاعر کہتا ہے کہ تجربے نے اتنی سمجھ دے دی ہے کہ آنے والی چیز کی خبر پہلے ہی ہو جاتی ہے۔ “قدموں کی آہٹ” زندگی کے مسائل، اس کی سختیاں اور اس کے معمولات کی علامت ہے۔ زندگی کو مخاطب کر کے وہ بتاتا ہے کہ اب وہ اسے پہچاننے میں دھوکا نہیں کھاتا۔ لہجہ تھکا ہوا بھی ہے اور بے حد واقفیت بھرا بھی۔

Interpretation: Rekhta AI

شاعر کہتا ہے کہ تجربے نے اتنی سمجھ دے دی ہے کہ آنے والی چیز کی خبر پہلے ہی ہو جاتی ہے۔ “قدموں کی آہٹ” زندگی کے مسائل، اس کی سختیاں اور اس کے معمولات کی علامت ہے۔ زندگی کو مخاطب کر کے وہ بتاتا ہے کہ اب وہ اسے پہچاننے میں دھوکا نہیں کھاتا۔ لہجہ تھکا ہوا بھی ہے اور بے حد واقفیت بھرا بھی۔

فراق گورکھپوری

زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں

پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے

بشیر بدر

زندگی زندہ دلی کا ہے نام

مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں

امام بخش ناسخ

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب

موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

EXPLANATION #1

چکبست کا یہ شعر بہت مشہور ہے۔ غالب نے کیا خوب کہا تھا:

ہو گئے مضمحل قویٰ غالبؔ

اب عناصر میں اعتدال کہاں

انسانی جسم کچھ عناصر کی ترتیب سے تشکیل پاتا ہے۔ حکماء کی نظر میں وہ عناصر آگ، ہوا، مٹی اور پانی ہے۔ ان عناصر میں جب انتشار پیدا ہوتا ہے تو انسانی جسم اپنا توازن کھو بیٹھتا ہے۔یعنی غالب کی زبان میں جب عناصر میں اعتدال نہیں رہتا تو قویٰ یعنی مختلف قوتیں کمزور ہوجاتی ہیں۔ چکبست اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جب تک انسانی جسم میں عناصر ترتیب کے ساتھ رہتے ہیں آدمی زندہ رہتا ہے۔ اور جب یہ عناصر پریشان ہوجاتے ہیں یعنی ان میں توزن اور اعتدال نہیں رہتا تو موت واقع ہو جاتی ہے۔

شفق سوپوری

EXPLANATION #1

چکبست کا یہ شعر بہت مشہور ہے۔ غالب نے کیا خوب کہا تھا:

ہو گئے مضمحل قویٰ غالبؔ

اب عناصر میں اعتدال کہاں

انسانی جسم کچھ عناصر کی ترتیب سے تشکیل پاتا ہے۔ حکماء کی نظر میں وہ عناصر آگ، ہوا، مٹی اور پانی ہے۔ ان عناصر میں جب انتشار پیدا ہوتا ہے تو انسانی جسم اپنا توازن کھو بیٹھتا ہے۔یعنی غالب کی زبان میں جب عناصر میں اعتدال نہیں رہتا تو قویٰ یعنی مختلف قوتیں کمزور ہوجاتی ہیں۔ چکبست اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جب تک انسانی جسم میں عناصر ترتیب کے ساتھ رہتے ہیں آدمی زندہ رہتا ہے۔ اور جب یہ عناصر پریشان ہوجاتے ہیں یعنی ان میں توزن اور اعتدال نہیں رہتا تو موت واقع ہو جاتی ہے۔

شفق سوپوری

چکبست برج نرائن

موت کا بھی علاج ہو شاید

زندگی کا کوئی علاج نہیں

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں شاعر ایک الٹی مگر گہری بات کہتا ہے: موت شاید مسئلہ ہے جس کا حل سوچا جا سکتا ہے، لیکن زندگی خود ایسی کیفیت ہے جس کی بے چینی اور کرب کا کوئی مکمل علاج نہیں۔ “علاج” یہاں محض دوا نہیں بلکہ دل کو سکون دینے والی نجات کا استعارہ ہے۔ لہجہ تھکن، بے بسی اور وجودی اداسی سے بھرا ہوا ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں شاعر ایک الٹی مگر گہری بات کہتا ہے: موت شاید مسئلہ ہے جس کا حل سوچا جا سکتا ہے، لیکن زندگی خود ایسی کیفیت ہے جس کی بے چینی اور کرب کا کوئی مکمل علاج نہیں۔ “علاج” یہاں محض دوا نہیں بلکہ دل کو سکون دینے والی نجات کا استعارہ ہے۔ لہجہ تھکن، بے بسی اور وجودی اداسی سے بھرا ہوا ہے۔

فراق گورکھپوری

زندگی شاید اسی کا نام ہے

دوریاں مجبوریاں تنہائیاں

کیف بھوپالی

چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے

اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے

اصغر گونڈوی

تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم

ٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہم

ساحر لدھیانوی

یوں تو مرنے کے لیے زہر سبھی پیتے ہیں

زندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نے

خلیل الرحمن اعظمی

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

فانی بدایونی

ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانیؔ

زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا

فانی بدایونی

میں سوچتا ہوں بہت زندگی کے بارے میں

یہ زندگی بھی مجھے سوچ کر نہ رہ جائے

ابھیشیک شکلا

مختصر یہ ہے ہماری داستان زندگی

اک سکون دل کی خاطر عمر بھر تڑپا کیے

معین احسن جذبی

میں مے کدے کی راہ سے ہو کر نکل گیا

ورنہ سفر حیات کا کافی طویل تھا

عبد الحمید عدم

زندگی اک آنسوؤں کا جام تھا

پی گئے کچھ اور کچھ چھلکا گئے

شاہد کبیر

اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا

زندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیا

شاد عظیم آبادی
بولیے