ادا پر ۲۰ بہترین اشعار

حسن کی ساری نزاکت اداؤں سے ہی ہے اور یہی ادائیں عاشق کیلئے جان لیوا ہوتی ہیں ۔ محبوب کے دیکھنے ،مسکرانے ، چلنے ، بات کرنے ، اورخاموش رہنے کی اداؤں کا بیان شاعری کا ایک اہم باب ہے ۔ ہم اچھے شعروں کا ایک انتخاب پیش کر رہے ہیں ۔

انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ

دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دئیے مسکرا کے ہاتھ

she couldn't even stretch out with her arms upraised

seeing me she smiled and composed herself all fazed

she couldn't even stretch out with her arms upraised

seeing me she smiled and composed herself all fazed

نظام رامپوری

آفت تو ہے وہ ناز بھی انداز بھی لیکن

مرتا ہوں میں جس پر وہ ادا اور ہی کچھ ہے

امیر مینائی

آپ نے تصویر بھیجی میں نے دیکھی غور سے

ہر ادا اچھی خموشی کی ادا اچھی نہیں

جلیل مانک پوری

ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا

بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا

ارشد علی خان قلق

انداز اپنا دیکھتے ہیں آئنے میں وہ

اور یہ بھی دیکھتے ہیں کوئی دیکھتا نہ ہو

looking in the mirror she sees her savoir-faire

and also looks to see no one is peeping there

looking in the mirror she sees her savoir-faire

and also looks to see no one is peeping there

نظام رامپوری

دشمن کے گھر سے چل کے دکھا دو جدا جدا

یہ بانکپن کی چال یہ ناز و ادا کی ہے

بیخود دہلوی

گل ہو مہتاب ہو آئینہ ہو خورشید ہو میر

اپنا محبوب وہی ہے جو ادا رکھتا ہو

میر تقی میر

حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا

حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا

how easy is for these maidens to make the lightening fall

how easy is for these maidens to make the lightening fall

اکبر الہ آبادی

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

مرزا غالب

جان لینی تھی صاف کہہ دیتے

کیا ضرورت تھی مسکرانے کی

نامعلوم

خوب رو ہیں سیکڑوں لیکن نہیں تیرا جواب

دل ربائی میں ادا میں ناز میں انداز میں

لالہ مادھو رام جوہر

ناز ہے گل کو نزاکت پہ چمن میں اے ذوقؔ

اس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے

شیخ ابراہیم ذوقؔ

نماز اپنی اگرچہ کبھی قضا نہ ہوئی

ادا کسی کی جو دیکھی تو پھر ادا نہ ہوئی

عبدالرحمان احسان دہلوی

نگاہیں اس قدر قاتل کہ اف اف

ادائیں اس قدر پیاری کہ توبہ

آرزو لکھنوی

پہلے اس میں اک ادا تھی ناز تھا انداز تھا

روٹھنا اب تو تری عادت میں شامل ہو گیا

آغا شاعر قزلباش

پوچھا جو ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح

زلفوں کو رخ پہ ڈال کے جھٹکا دیا کہ یوں

آرزو لکھنوی

صورت تو ابتدا سے تری لا جواب تھی

ناز و ادا نے اور طرح دار کر دیا

جلیل مانک پوری

تجھ کو دیکھا نہ ترے ناز و ادا کو دیکھا

تیری ہر طرز میں اک شان خدا کو دیکھا

مرزا مائل دہلوی

یہ جو سر نیچے کئے بیٹھے ہیں

جان کتنوں کی لیے بیٹھے ہیں

جلیل مانک پوری

زمانہ حسن نزاکت بلا جفا شوخی

سمٹ کے آ گئے سب آپ کی اداؤں میں

کالی داس گپتا رضا

Added to your favorites

Removed from your favorites