حسن پر ۲۰ بہترین اشعار


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے


آئنہ دیکھ کے کہتے ہیں سنورنے والے


آج بے موت مریں گے مرے مرنے والے

بڑا وسیع ہے اس کے جمال کا منظر


وہ آئینے میں تو بس مختصر سا رہتا ہے

گوندھ کے گویا پتی گل کی وہ ترکیب بنائی ہے


رنگ بدن کا تب دیکھو جب چولی بھیگے پسینے میں

حسن کو حسن بنانے میں مرا ہاتھ بھی ہے


آپ مجھ کو نظر انداز نہیں کر سکتے

الٰہی کیسی کیسی صورتیں تو نے بنائی ہیں


کہ ہر صورت کلیجے سے لگا لینے کے قابل ہے

اتنے حجابوں پر تو یہ عالم ہے حسن کا


کیا حال ہو جو دیکھ لیں پردہ اٹھا کے ہم

میری نگاہ شوق بھی کچھ کم نہیں مگر


پھر بھی ترا شباب ترا ہی شباب ہے

نہ دیکھنا کبھی آئینہ بھول کر دیکھو


تمہارے حسن کا پیدا جواب کر دے گا

نہ پوچھو حسن کی تعریف ہم سے


محبت جس سے ہو بس وہ حسیں ہے

نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں


وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں

پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے


پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت

پھولوں کی سیج پر ذرا آرام کیا کیا


اس گلبدن پہ نقش اٹھ آئے گلاب کے

پوچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینئ حسن کو بڑھنے دو


سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں

روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام


دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام

رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں


ادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے

سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے


کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں

تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت


ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں

ترے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکن


زباں میں آنکھ نہیں آنکھ میں زبان نہیں

اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن


دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں

اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا


آسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا


ہم حسن کو دیکھ سکتے ہیں ،محسوس کرسکتے ہیں اس سے لطف اٹھا سکتے ہیں لیکن اس کا بیان آسان نہیں ۔ ہمارا یہ شعری انتخاب حسن دیکھ کر پیدا ہونے والے آپ کے احساسات کی تصویر گری ہے ۔ آپ دیکھیں گے کہ شاعروں نے کتنے اچھوتے اور نئے نئے ڈھنگ سے حسن اور اس کی مختلف صورتوں کو بیان کیا ۔ ہمارا یہ انتخاب آپ کو حسن کو ایک بڑے اور کشادہ کینوس پر دیکھنے کا اہل بھی بنائے گا ۔ آپ اسے پڑھئے اور حسن پرستوں میں عام کیجئے ۔

comments powered by Disqus