وفا پر ۲۰ بہترین اشعار

وفا پر شاعری بھی زیادہ تر بے وفائی کی ہی صورتوں کو موضوع بناتی ہے ۔ وفادارعاشق کے علاوہ اور ہے کون ۔ اور یہ وفادار کردار ہر طرف سے بے وفائی کا نشانہ بنتا ہے ۔ یہ شاعری ہم کو وفاداری کی ترغیب بھی دیتی ہے اور بے وفائی کے دکھ جھیلنے والوں کے زخمی احساسات سے واقف بھی کراتی ہے ۔

انجام وفا یہ ہے جس نے بھی محبت کی

مرنے کی دعا مانگی جینے کی سزا پائی

نشور واحدی

بہت مشکل زمانوں میں بھی ہم اہل محبت

وفا پر عشق کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں

افتخار عارف

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی

یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

seek ye pearls of faithfulness in those lost and drowned

it well could be these treasures in wastelands do abound

seek ye pearls of faithfulness in those lost and drowned

it well could be these treasures in wastelands do abound

احمد فراز

دشمنوں کی جفا کا خوف نہیں

دوستوں کی وفا سے ڈرتے ہیں

I do nor fear injury from my enemies

what frightens me is my friend's fidelities

I do nor fear injury from my enemies

what frightens me is my friend's fidelities

حفیظ بنارسی

اس زندگی نے ساتھ کسی کا نہیں دیا

کس بے وفا سے تجھ کو تمنا وفا کی ہے

رسول جہاں بیگم مخفی بدایونی

جفا کے ذکر پہ تم کیوں سنبھل کے بیٹھ گئے

تمہاری بات نہیں بات ہے زمانے کی

مجروح سلطانپوری

جفا سے انہوں نے دیا دل پہ داغ

مکمل وفا کی سند ہو گئی

مضطر خیرآبادی

کسی طرح جو نہ اس بت نے اعتبار کیا

مری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا

داغؔ دہلوی

کیوں پشیماں ہو اگر وعدہ وفا ہو نہ سکا

کہیں وعدے بھی نبھانے کے لئے ہوتے ہیں

عبرت مچھلی شہری

نہ کریں آپ وفا ہم کو کیا

بے وفا آپ ہی کہلائیے گا

وزیر علی صبا لکھنؤی

سنا ہے وہ بھی مرے قتل میں ملوث ہے

وہ بے وفا ہے مگر اتنا بے وفا بھی نہیں

نفس انبالوی

تری وفا میں ملی آرزوئے موت مجھے

جو موت مل گئی ہوتی تو کوئی بات بھی تھی

خلیل الرحمن اعظمی

تجھ سے وفا نہ کی تو کسی سے وفا نہ کی

کس طرح انتقام لیا اپنے آپ سے

حمایت علی شاعرؔ

اڑ گئی یوں وفا زمانے سے

کبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں

داغؔ دہلوی

امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی

وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا

چراغ حسن حسرت

وفا جس سے کی بے وفا ہو گیا

جسے بت بنایا خدا ہو گیا

I was constant but she eschewed fidelity

the one I idolized, alas, claimed divinity

I was constant but she eschewed fidelity

the one I idolized, alas, claimed divinity

حفیظ جالندھری

وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے

تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا

داغؔ دہلوی

وفا کے شہر میں اب لوگ جھوٹ بولتے ہیں

تو آ رہا ہے مگر سچ کو مانتا ہے تو آ

غلام محمد قاصر

وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا

کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے

محسن نقوی

وفاؤں کے بدلے جفا کر رہے ہیں

میں کیا کر رہا ہوں وہ کیا کر رہے ہیں

حفیظ جالندھری

Added to your favorites

Removed from your favorites