وحشت پر شاعری

وحشت پر یہ شاعری آپ کے لئے عاشق کی شخصیت کے ایک دلچسپ پہلو کا حیران کن بیان ثابت ہوگی ۔ آپ دیکھیں گے کہ عاشق جنون اور دیوانگی کی آخری حد پر پہنچ کر کیا کرتا ہے ۔ اور کس طرح وہ وحشت کرنے کے لئے صحراؤں میں نکل پڑتا ہے ۔

عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی

میری وحشت تری شہرت ہی سہی

مرزا غالب

ایسے ڈرے ہوئے ہیں زمانے کی چال سے

گھر میں بھی پاؤں رکھتے ہیں ہم تو سنبھال کر

عادل منصوری

گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں

شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

افتخار عارف

بچپن میں ہم ہی تھے یا تھا اور کوئی

وحشت سی ہونے لگتی ہے یادوں سے

عبد الاحد ساز

لوگ کہتے ہیں کہ تم سے ہی محبت ہے مجھے

تم جو کہتے ہو کہ وحشت ہے تو وحشت ہوگی

عبد الحمید عدم

اپنے ہم راہ جو آتے ہو ادھر سے پہلے

دشت پڑتا ہے میاں عشق میں گھر سے پہلے

ابن انشا

جاگتا ہوں میں ایک اکیلا دنیا سوتی ہے

کتنی وحشت ہجر کی لمبی رات میں ہوتی ہے

شہریار

پھر وہی لمبی دوپہریں ہیں پھر وہی دل کی حالت ہے

باہر کتنا سناٹا ہے اندر کتنی وحشت ہے

اعتبار ساجد

دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو

کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو

افتخار عارف

وحشتیں عشق اور مجبوری

کیا کسی خاص امتحان میں ہوں

خورشید ربانی

وہ جس کے نام کی نسبت سے روشنی تھا وجود

کھٹک رہا ہے وہی آفتاب آنکھوں میں

افتخار عارف

کچھ بے ٹھکانہ کرتی رہیں ہجرتیں مدام

کچھ میری وحشتوں نے مجھے در بدر کیا

صابر ظفر

عشق پر فائز ہوں اوروں کی طرح لیکن مجھے

وصل کا لپکا نہیں ہے ہجر سے وحشت نہیں

غلام حسین ساجد

بستی بستی پربت پربت وحشت کی ہے دھوپ ضیاؔ

چاروں جانب ویرانی ہے دل کا اک ویرانہ کیا

احمد ضیا

ہو سکے کیا اپنی وحشت کا علاج

میرے کوچے میں بھی صحرا چاہئے

داغؔ دہلوی

نہ ہم وحشت میں اپنے گھر سے نکلے

نہ صحرا اپنی ویرانی سے نکلا

کاشف حسین غائر

وحشت کا یہ عالم کہ پس چاک گریباں

رنجش ہے بہاروں سے الجھتے ہیں خزاں سے

جاوید صبا

وہ جو اک شرط تھی وحشت کی اٹھا دی گئی کیا

میری بستی کسی صحرا میں بسا دی گئی کیا

عرفان صدیقی

وحشتیں کچھ اس طرح اپنا مقدر بن گئیں

ہم جہاں پہنچے ہمارے ساتھ ویرانے گئے

خاطر غزنوی

سودائے عشق اور ہے وحشت کچھ اور شے

مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا

بیخود دہلوی

وحشت دل نے کیا ہے وہ بیاباں پیدا

سیکڑوں کوس نہیں صورت انساں پیدا

حیدر علی آتش

فصل گل آتے ہی وحشت ہو گئی

پھر وہی اپنی طبیعت ہو گئی

لالہ مادھو رام جوہر

جسم تھکتا نہیں چلنے سے کہ وحشت کا سفر

خواب میں نقل مکانی کی طرح ہوتا ہے

فیصل عجمی

اک دن دکھ کی شدت کم پڑ جاتی ہے

کیسی بھی ہو وحشت کم پڑ جاتی ہے

کاشف حسین غائر

شادؔ اتنی بڑھ گئی ہیں میرے دل کی وحشتیں

اب جنوں میں دشت اور گھر ایک جیسے ہو گئے

خوشبیر سنگھ شادؔ