وصال پر ۲۰ مقبول اشعار


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے


بدن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میں


کہ چھو رہا ہوں تجھے اور پگھل رہا ہوں میں

بس ایک لمحہ ترے وصل کا میسر ہو


اور اس وصال کے لمحے کو دائمی کیا جائے

گزرنے ہی نہ دی وہ رات میں نے


گھڑی پر رکھ دیا تھا ہاتھ میں نے

اک رات دل جلوں کو یہ عیش وصال دے


پھر چاہے آسمان جہنم میں ڈال دے

جب ذکر کیا میں نے کبھی وصل کا ان سے


وہ کہنے لگے پاک محبت ہے بڑی چیز

میں اپنے جسم کی سرگوشیوں کو سنتا ہوں


ترے وصال کی ساعت نکلتی جاتی ہے

ملنے کی یہ کون گھڑی تھی


باہر ہجر کی رات کھڑی تھی

شب وصال ہے گل کر دو ان چراغوں کو


خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا

صورت وصل نکلتی کسی تدبیر کے ساتھ


میری تصویر ہی کھنچتی تری تصویر کے ساتھ

تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب


وہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب

اس کی قربت کا نشہ کیا چیز ہے


ہاتھ پھر جلتے توے پر رکھ دیا

وصل ہوتا ہے جن کو دنیا میں


یا رب ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں

وصل کا دن اور اتنا مختصر


دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے

وصل کی شب تھی اور اجالے کر رکھے تھے


جسم و جاں سب اس کے حوالے کر رکھے تھے

وصل میں رنگ اڑ گیا میرا


کیا جدائی کو منہ دکھاؤں گا

وصال یار کی خواہش میں اکثر


چراغ شام سے پہلے جلا ہوں

وہ گلے سے لپٹ کے سوتے ہیں


آج کل گرمیاں ہیں جاڑوں میں

وہ مری روح کی الجھن کا سبب جانتا ہے


جسم کی پیاس بجھانے پہ بھی راضی نکلا

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا


اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

ذرا وصال کے بعد آئنہ تو دیکھ اے دوست


ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی


محبوب سے وصال کی آرزو تو آپ سب نے پال رکھی ہوگی لیکن وہ آرزو ہی کیا جو پوری ہو جائے ۔ شاعری میں بھی آ پ دیکھیں گے کہ بچارا عاشق عمر بھر وصال کی ایک ناکام خواہش میں ہی جیتا رہتا ہے ۔ یہاں ہم نے کچھ ایسے اشعار جمع کئے ہیں جو ہجر و وصال کی اس دلچسپ کہانی کو سلسلہ وار بیان کرتے ہیں ۔ اس کہانی میں کچھ ایسے موڑ بھی ہیں جو آپ کو حیران کر دیں گے ۔

comments powered by Disqus