وصال پر ۲۰ مقبول اشعار

محبوب سے وصال کی آرزو تو آپ سب نے پال رکھی ہوگی لیکن وہ آرزو ہی کیا جو پوری ہو جائے ۔ شاعری میں بھی آ پ دیکھیں گے کہ بچارا عاشق عمر بھر وصال کی ایک ناکام خواہش میں ہی جیتا رہتا ہے ۔ یہاں ہم نے کچھ ایسے اشعار جمع کئے ہیں جو ہجر و وصال کی اس دلچسپ کہانی کو سلسلہ وار بیان کرتے ہیں ۔ اس کہانی میں کچھ ایسے موڑ بھی ہیں جو آپ کو حیران کر دیں گے ۔

اس کی قربت کا نشہ کیا چیز ہے

ہاتھ پھر جلتے توے پر رکھ دیا

فضا ابن فیضی
  • شیئر کیجیے

اک رات دل جلوں کو یہ عیش وصال دے

پھر چاہے آسمان جہنم میں ڈال دے

just one night give these deprived the joy of company

thereafter if you wish merge paradise and purgatory

just one night give these deprived the joy of company

thereafter if you wish merge paradise and purgatory

جلالؔ لکھنوی
  • شیئر کیجیے

بدن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میں

کہ چھو رہا ہوں تجھے اور پگھل رہا ہوں میں

عرفانؔ صدیقی
  • شیئر کیجیے

بس ایک لمحہ ترے وصل کا میسر ہو

اور اس وصال کے لمحے کو دائمی کیا جائے

حماد نیازی
  • شیئر کیجیے

تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب

وہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب

مومن خاں مومن
  • شیئر کیجیے

جب ذکر کیا میں نے کبھی وصل کا ان سے

وہ کہنے لگے پاک محبت ہے بڑی چیز

نوح ناروی
  • شیئر کیجیے

ذرا وصال کے بعد آئنہ تو دیکھ اے دوست

ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی

فراق گورکھپوری
  • شیئر کیجیے

شب وصال ہے گل کر دو ان چراغوں کو

خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا

داغؔ دہلوی
  • شیئر کیجیے

صورت وصل نکلتی کسی تدبیر کے ساتھ

میری تصویر ہی کھنچتی تری تصویر کے ساتھ

نامعلوم
  • شیئر کیجیے

گزرنے ہی نہ دی وہ رات میں نے

گھڑی پر رکھ دیا تھا ہاتھ میں نے

شہزاد احمد
  • شیئر کیجیے

ملنے کی یہ کون گھڑی تھی

باہر ہجر کی رات کھڑی تھی

احمد مشتاق
  • شیئر کیجیے

میں اپنے جسم کی سرگوشیوں کو سنتا ہوں

ترے وصال کی ساعت نکلتی جاتی ہے

شہریار
  • شیئر کیجیے

وصال یار کی خواہش میں اکثر

چراغ شام سے پہلے جلا ہوں

عالم تاب تشنہ
  • شیئر کیجیے

وصل میں رنگ اڑ گیا میرا

کیا جدائی کو منہ دکھاؤں گا

میر تقی میر
  • شیئر کیجیے

وصل کا دن اور اتنا مختصر

دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے

امیر مینائی
  • شیئر کیجیے

وصل کی شب تھی اور اجالے کر رکھے تھے

جسم و جاں سب اس کے حوالے کر رکھے تھے

حیدر قریشی
  • شیئر کیجیے

وصل ہوتا ہے جن کو دنیا میں

یا رب ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں

میر حسن
  • شیئر کیجیے

وہ گلے سے لپٹ کے سوتے ہیں

آج کل گرمیاں ہیں جاڑوں میں

مضطر خیرآبادی
  • شیئر کیجیے

وہ مری روح کی الجھن کا سبب جانتا ہے

جسم کی پیاس بجھانے پہ بھی راضی نکلا

ساقی فاروقی
  • شیئر کیجیے

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

That my love be consummated, fate did not ordain

Living longer had I waited, would have been in vain

That my love be consummated, fate did not ordain

Living longer had I waited, would have been in vain

مرزا غالب
  • شیئر کیجیے

Added to your favorites

Removed from your favorites