انگڑائ پر ۲۰ مقبول اشعار

شاعری میں تخیل کی پروازنے بدن کی عام سی حرکات کو بھی حسن کے ایک دلچسپ بیانیے میں تبدیل کردیا ہے ۔ انگڑائ اوراس کی پوری جمالیات جس رنگا رنگی کے ساتھ اردو شاعری میں نظرآتی ہے وہ شاعروں کے ذہن کی زرخیزی اور ان کے تخیل کی بلند پروازی کا ایک بڑا ثبوت ہے ۔ بعض اشعار کو پڑھ کرتوایسا محسوس ہوتا ہے کہ حسن کا واحد مرکزانگڑائی کا عمل ہی ہے ۔ محبوب کے بدن میں فن کاروں کی دلچسپی کی یہ کتھا ہمارے اس انتخاب میں پڑھئے ۔

انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ

دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دئیے مسکرا کے ہاتھ

she couldn't even stretch out with her arms upraised

seeing me she smiled and composed herself all fazed

she couldn't even stretch out with her arms upraised

seeing me she smiled and composed herself all fazed

نظام رامپوری

انگڑائی دونوں ہاتھ اٹھا کر جو اس نے لی

پر لگ گئے پروں نے پری کو اڑا دیا

مرزارضا برق ؔ

اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے

جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی

Till even now in rainy climes, my limbs are aching, sore

The yen to stretch out languidly then comes to the fore

Till even now in rainy climes, my limbs are aching, sore

The yen to stretch out languidly then comes to the fore

پروین شاکر

اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز تھا حسن

بھولتا ہی نہیں عالم تری انگڑائی کا

عزیز لکھنوی

بے ساختہ بکھر گئی جلووں کی کائنات

آئینہ ٹوٹ کر تری انگڑائی بن گیا

ساغر صدیقی

دریائے حسن اور بھی دو ہاتھ بڑھ گیا

انگڑائی اس نے نشے میں لی جب اٹھا کے ہاتھ

امام بخش ناسخ

دل کا کیا حال کہوں صبح کو جب اس بت نے

لے کے انگڑائی کہا ناز سے ہم جاتے ہیں

how to describe my state when at the crack of dawn

she stretched in lagour and said it was time to be gone

how to describe my state when at the crack of dawn

she stretched in lagour and said it was time to be gone

داغؔ دہلوی

دونوں ہاتھوں سے لوٹتی ہے ہمیں

کتنی ظالم ہے تیری انگڑائی

جگر مراد آبادی

ایک انگڑائی سے سارے شہر کو نیند آ گئی

یہ تماشا میں نے دیکھا بام پر ہوتا ہوا

پریم کمار نظر

الٰہی کیا علاقہ ہے وہ جب لیتا ہے انگڑائی

مرے سینے میں سب زخموں کے ٹانکے ٹوٹ جاتے ہیں

جرأت قلندر بخش

کون انگڑائی لے رہا ہے عدمؔ

دو جہاں لڑکھڑائے جاتے ہیں

عبد الحمید عدم

کون یہ لے رہا ہے انگڑائی

آسمانوں کو نیند آتی ہے

فراق گورکھپوری

کیا کیا دل مضطر کے ارمان مچلتے ہیں

تصویر قیامت ہے ظالم تری انگڑائی

رام کرشن مضطر

کیوں چمک اٹھتی ہے بجلی بار بار

اے ستم گر لے نہ انگڑائی بہت

ساحل احمد

لٹ گئے ایک ہی انگڑائی میں ایسا بھی ہوا

عمر بھر پھرتے رہے بن کے جو ہشیار بہت

قیس رامپوری

پھر منہ سے ارے کہہ کر پیمانہ گرا دیجے

پھر توڑیئے دل میرا پھر لیجئے انگڑائی

منظر لکھنوی

شاید وہ دن پہلا دن تھا پلکیں بوجھل ہونے کا

مجھ کو دیکھتے ہی جب اس کی انگڑائی شرمائی ہے

جون ایلیا

شیخ صاحب کی نصیحت بھری باتوں کے لئے

کتنا رنگین جواب آپ کی انگڑائی ہے

ساغر خیامی

سن چکے جب حال میرا لے کے انگڑائی کہا

کس غضب کا درد ظالم تیرے افسانے میں تھا

شاد عظیم آبادی

تم پھر اسی ادا سے انگڑائی لے کے ہنس دو

آ جائے گا پلٹ کر گزرا ہوا زمانہ

شکیل بدایونی

Added to your favorites

Removed from your favorites